بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

وارث کا مورِث کی زندگی میں اس کی زمین واگزار کروانا


سوال

 میرے داد جان نے کچھ عرصہ پہلے اپنی زمین کچھ روپوں (تقریباً 2 لاکھ )کے بدلے اپنے چچا کے بیٹے کے پاس گروی رکھ دی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے باوجود دادا جان نے وہ رقم اد ا نہ کی تو میرے ابو جان نے داداجی سے یہ کہا کہ یہ زمین واگزار کرنی چاہیے، چناں چہ میرے ابو نے اپنے پیسے ادا کرکے دادا جان کے اس کزن سے زمین چھڑوالی۔کچھ عر صہ بعد دادا جان کا انتقال ہوگیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا یہ زمین اب میرے ابو (جنہوں نے پیسے ادا کرکے وہ زمین چھڑوالی تھی) کی ملکیت شمار ہوگی یا دادا جان کی جس سے وہ وراثت میں اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو ملے گی ؟

جواب

ظاہر یہی ہے کہ دادامرحوم کی زندگی میں آپ کے والد نے ان کی زمین واگزار کروانے کے لیے جو رقم دی تھی وہ بطورِ تبرع واحسان کے تھی؛ اس لیے دادا کی حیات میں ہی وہ زمین واگزار کرواکر دادا مرحوم کو دے دینے سے آپ کے والد اس زمین کے مالک نہیں کہلائیں گے، بلکہ وہ زمین مرحوم کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔البتہ اگر آپ کے والد نے مذکورہ رقم بطورِ قرض کے دی ہو اور اس پر گواہ موجود ہوں تو اس صورت میں ترکہ کی تقسیم سے قبل مذکورہ رقم نکالی جائے گی اور بقیہ ترکہ ورثاء میں تقسیم ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے