بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

نہ لڑکی کو قبول کیا تھا اور نہ قبول کرتا ہوں سے طلاق کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص نکاح کے بعد  کہہ دے  کہ میں نے نہ لڑکی کو قبول کیا تھا اور نہ قبول کرتا ہوں، کیا ایسا کہنے سے نکاح باطل ہوگا یا طلاق واقع ہوگی ؟

جواب

نکاح کے ایجاب و قبول کے وقت مذکور ہ شخص نے چوں کہ  قبول کیا تھا تو نکاح منعقد ہوگیا تھا ، اب اس کا یہ کہنا کہ’’نہ لڑکی کو قبول کیا تھا نہ کرتا ہوں‘‘  لغو ہے ، نکاح بدستور برقرار ہے ،  اور چوں کہ یہ الفاظ  عرفاً اور شرعاً طلاق کے بھی نہیں؛ اس  لیے ان الفاظ سے طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 230):
"وركنه لفظ مخصوص". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200595

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں