بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے گواہوں کا اجرت لینا


سوال

نکاح کرنے کے لیے دومسلمان مرد گواہوں کا ہونا شرط ہے تو کیا دو اجنبی عاقل بالغ مسلمان مردوں کوپیسے دے کر بھی اپنے نکاح کے لیے گواہ بنایاجاسکتاہے؟

جواب

نکاح کے لیے گواہ بنناشرعی شہادت ہے اور شرعی شہادت پراجرت لیناناجائزہے،البتہ اگر اجرت لے کر دومسلمان نکاح کے انعقاد میں گواہ بن جائیں تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔(کفایت المفتی 2/275دارالاشاعت)

لیکن شریعت نے نکاح میں اعلان اور عام لوگوں کے مجمع میں اس مجلس کے انعقاد کو پسند کیاہے،اس طرح کرائے کے گواہوں کی گواہی کے ساتھ نکاح کرناپسندیدہ نہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے