بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے لیے لڑکی سے اجازت لینا


سوال

کچھ عرصہ پہلے میری سالی کا نکاح ۔۔۔  سے طے ہوا تھا،  نکاح سے پہلے بچی میرے گھر والی میری اہلیہ کو لینے آئی جو  کہ اس کی بڑی بہن ہے، پھر بچی نے میری اہلیہ سے کہا: ماموں گھر میں میرے نکاح سے متعلق پوچھنے آیا ہوا ہے، میں ان کو کیا کہوں؟ تو میری اہلیہ نے کہا: ماموں تم سے اجازت لینے آیا ہے،  یہ سن کر وہ خاموش رہی،  پھر میری اہلیہ نے یہ کہا : تمہارا حق مہر کتنا رکھنا ہے؟  اس پر اس نے کہا: جتنا مہر آپ لوگوں کا رکھا ہے،( یعنی دوسرے بہنوں کا)،  پھر یہ باتیں میری اہلیہ نےماموں کو بتائیں، اور نکاح منعقد ہوا۔  اب پوچھنا یہ ہے مذکورہ صورت میں جو باتیں بچی نےکی ہیں،  یہ اجازت شمار ہوں گی یا نہیں؟  اور یہ نکاح شرعی طور پر منعقد ہوا ہے کہ نہیں؟ یہ سب باتیں میری اہلیہ اور بچی سے پوچھ کر تحریر کی ہیں۔

جواب

آپ نے سوال میں یہ تو لکھا ہے کہ جب آپ کی اہلیہ نے آپ کی سالی سے یہ کہا کہ وہ تم سے نکاح کی اجازت لینے آیا ہے، یہ سن کر وہ خاموش رہی، لیکن یہ نہیں لکھا کہ ماموں نے جس وقت اجازت لی اس وقت لڑکی کے کیا تاثرات تھے، اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر دلہن کنواری ہو اور وہ وکیل کی اجازت کے سوال میں خاموش رہے تو یہ اجازت ہی شمار ہو  جائے گی اور اگر دلہن ثیبہ ہے تو محض خاموش رہنا نکاح کی اجازت کے لیے کافی نہیں ہو گا،  بلکہ زبان سے اجازت دینا ضروری ہو گا۔

بہرحال اگر اجازت لیتے ہوئے کنواری ہونے کی صورت میں خاموشی اختیار کی تو یہ اجازت درست ہو گئی اور ثیبہ ہونے کی صورت میں زبان سے اجازت دی تو یہ نکاح بھی درست ہوگیا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201947

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے