بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح پڑھانے والا گواہ بن سکتا ہے یا نہیں ؟


سوال

 کیا دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجاتاہے،جب کہ نکاح پڑھانے والا خود بھی ایک گواہ ہو؟  اور صرف لڑکا لڑکی سامنے ہو ،کوئی وکیل وغیرہ نہ ہو؟ پہلے خاتون سے اقرار کروائے اور پھر  مرد سے قبول کروادے،کیایہ نکاح منعقد ہوجاتاہے؟

جواب

 نکاح خواں گواہ بن سکتاہے، مگر نکاح خواں کے سامنے صرف لڑکا اورلڑکی ہو ں تو   نکاح منعقد نہیں ہوگا؛ کیوں کہ نکاح منعقد ہونے کے لیے کم ازکم دوگواہوں کا ہونا ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے