بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز کی حالت میں پائنچہ کا ٹخنوں سے نیچے رکھنا / پینٹ یا پائنچہ موڑ کر نماز پڑھنا


سوال

نماز کی حالت میں ٹخنوں سے نیچے پائنچے کا ہونا کیسا ہے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شلوار یا پینٹ وغیرہ موڑنا یا فولڈ کر کہ نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے؟

جواب

شلوار کے پائنچہ ٹخنوں سے نیچے رکھنا  بقصدِ تکبر حرام ہے، اور بلاقصدِ تکبر مکروہ تحریمی ہے، اگر غیر ارادی طور پر کبھی شلوار کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹک جائے تو  معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا یا شلوار ہی ایسی بنانا کہ پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹکتا رہے یہ ہر گز جائز نہیں ہے، اور یہ متکبرین کی علامت ہے، اور جب یہ فعل ہی متکبرین کی علامت ہے  تو پھر یہ کہہ کر ٹخنوں کو چھپانا کہ نیت میں تکبر نہیں تھا ، شرعاً درست نہیں ہے، اور ٹخنوں کو ڈھانکنا نماز اور غیر نماز ہر حال میں ممنوع ہے،  اور نماز میں اس کی حرمت مزید شدید ہوجاتی ہے،  لہذا ایسا لباس ہی نہ بنایا جائے جس میں ٹخنے ڈھکتے ہوں، اور ایسا لباس ہونے کی صورت میں  نماز شروع کرنے سے پہلے  شلوار پینٹ وغیرہ کو اوپر یا نیچے کی طرف سے موڑ لینے سے کم ازکم اس گناہ سے نجات مل جائے گی جو شلوار وغیرہ کو نماز کے اندر ایسے ہی چھوڑ دینے سے جو گناہ ہوتا، اور نماز کے دوران  شلوار وغیرہ کو ایک ہاتھ سے ایک ہی دفعہ موڑ لینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ دورانِ نماز جھک کر پینٹ یا شلوار وغیرہ پائنتی کی جانب  سے موڑلینا عمل کثیر ہے، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

"إن الله  تعالی لایقبل صلاة رجل مسبل".  (سنن أبي داود، کتاب اللباس، باب ماجاء في ٖسبال الإزار، النسخة الهندیة۲/۵۶۵، بیت الأفکار رقم:۴۰۸۶)

"عن أبي هریرة، قال: قال رسول الﷲ صلی الله  علیه وسلم: ما أسفل من الکعبین  من الإزار في النار".  (صحیح البخاري، کتاب الصلاة، باب ما أسفل من الکعبین ففي النار۲/۸۶۱، رقم:۵۵۵۹)  

"عن أبي ذر، عن النبي صلی الله  علیه وسلم قال: ثلاثة لایکلمهم الله  یوم القیامة، المنان الذيلایعطي شیئاً إلامنّه، والمنفق سلعته بالحلف والفاجر، والمسبل إزاره". (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم  إسبال الإزار، النسخة الهندیة ۱/۷۱، بیت الأفکار رقم:۱۰۶)

"وینبغي أن یکون الإزار فوق الکعبین". الخ۔ (هندیة، کتاب الکراهة، الباب التاسع في اللبس، زکریا۵/۳۳۳)

’’ مرقاة المفا تیح‘‘: ولا یجوز الإسبال تحت الکعبین إن کان للخیلاء، وقد نص الشافعی علی أن التحریم مخصوص بالخیلاء؛ لدلالة ظواهر الأحادیث علیها، فإن کان للخیلاء فهو ممنوع منع تحریم، وإلا فمنع تنزیه". (۸/۱۹۸، کتاب اللباس)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200783

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے