بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد سفر شروع کرنے والا منزل پر پہنچ کر قصر کرے گا یا اتمام؟


سوال

میں شارجہ میں رہائش پذیر ہوں اور میری کمپنی ابو ظہبی میں ہے، تقریباً 150کلومیٹر کا فیصلہ ہے، شفٹوں میں ڈیوٹی کرتا ہوں، جب دوپہر کو ڈیوٹی کے لیے روانہ ہوتا ہوں تو ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے۔ لیکن نماز ادا کرنے کا وقت نہیں ہوتا؛کیوں کہ پک اینڈ ڈراپ والی بس آ جاتی ہے۔ اسی طرح نائٹ ڈیوٹی کے لیے جب روانہ ہوتا ہوں تو عشاء کی اذان ہو رہی ہوتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ مجھے اپنی کمپنی میں پہنچ کر ظہر اور عشاء کی نماز یں پوری ادا کرنی ہیں یا قصر کرنی ہیں؟

جواب

نماز کا وقت ختم ہوتے وقت آپ جس حالت میں ہوں گے اسی کا اعتبار ہوگا، یعنی مثلاً: ظہر کی نماز کا وقت جب ختم ہورہا ہو  تو اس وقت اگر آپ مقیم ہوں تو چار رکعت نماز ذمہ میں لازم ہوں گی اور اگر مسافر ہوں تو دو رکعت ذمہ میں لازم ہوں گی، لہذا صورتِ مسئولہ میں  جب آپ شارجہ سے ظہر یا عشاء کا وقت داخل ہونے کے بعد ابو ظبہی کے لیے نکلے اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے آپ شارجہ کی حدود سے نکل گئے تو آپ کے ذمے ظہر اور عشاء کی نماز قصر لازم ہوگی، خواہ وقت کے اندر اندر ابوظہبی پہنچ کر ادا کریں نماز کا وقت ختم ہوجانے کے بعد پہنچ کر قضا کریں۔اور اگر شارجہ کی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی نماز کا وقت ختم ہوجائے تو چوں کہ اپنے شہر کی حدود سے نکلنے سے پہلے  شرعی سفر کے احکام لاگو نہیں ہوتے تو ایسی صورت میں ابو ظبہی پہنچ کر  چار رکعت کی قضا کریں گے۔غالب یہی ہے کہ شارجہ سے ابو ظبہی پہنچتے ہوئے اتنا وقت نہیں لگتا ہوگا کہ ظہر  یا عشاء کا وقت نکل جائے ، لہذا آپ  وہاں پہنچ کر قصر نماز ادا کریں۔ فقط واللہ اعلم

تبيين الحقائق  (1/ 215)
'' قال - رحمه الله - : (والمعتبر فيه آخر الوقت) أي المعتبر في وجوب الأربع أو الركعتين آخر الوقت، فإن كان آخر الوقت مسافراً وجب عليه ركعتان، وإن كان مقيماً وجب عليه الأربع ؛ لأنه المعتبر في السببية عند عدم الأداء في أول الوقت''۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 131)
''(والمعتبر في تغيير الفرض آخر الوقت) وهو قدر ما يسع التحريمة (فإن كان) المكلف (في آخره مسافراً وجب ركعتان وإلا فأربع) ؛ لأنه المعتبر في السببية عند عدم الأداء قبله۔
(قوله : والمعتبر في تغيير الفرض) أي من قصر إلى إتمام وبالعكس۔ (قوله: وهو) أي آخر الوقت قدر ما يسع التحريمة، كذا في الشرنبلالية والبحر والنهر، والذي في شرح المنية تفسيره بما لا يبقى منه قدر ما يسع التحريمة، وعند زفر بما لا يسع فيه أداء الصلاة، (قوله: وجب ركعتان) أي وإن كان في أوله مقيماً وقوله: وإلا فأربع أي وإن لم يكن في آخره مسافراً بأن كان مقيماً في آخره فالواجب أربع''.
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں