بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز میں دوسورتوں کے درمیان سے ایک مختصر سورت کا چھوڑنا


سوال

1- کیا میں پہلی رکعت میں سورہ نصر اور دوسری رکعت میں سورہ  اخلاص پڑھ سکتا ہوں یا مجھے دو سورتیں چھوڑنی پڑیں گی؟

2-  اگر میں سورہ  یٰس پہلی رکعت میں شروع کرتا ہوں تو دوسری رکعت میں سورہ  یٰس ادھر  سے شروع کر سکتا ہوں،  جہاں سے پہلی رکعت میں چھوڑی تھی؟

جواب

1۔ فرض نماز کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کے درمیان جان بوجھ کر کسی ایسی ایک سورت کا فاصلہ دیا گیا جس سے دو رکعت نہیں بن سکتیں، (جیسے پہلی رکعت میں سورۂ نصر اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھنا)  تو یہ مکروہ (تنزیہی) ہو گا، ہاں ایسی سورت کا فاصلہ دیا جس سے دو رکعت بن سکتی ہیں، جیسے پہلی رکعت میں سورہ ضحیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ تین پڑھنا یا ایک سے زائد سورت کا فاصلہ دیا جیسے پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھی تو بلا کراہت جائز ہو گا۔ نوافل میں یہ مکروہ نہیں ہوگا۔
2۔ جی!  بالکل سورہ یٰس پہلی رکعت میں جہاں تک پڑھی ہے،  دوسری رکعت میں وہیں سے آپ تلاوت کرسکتے ہیں،  یعنی ایک ہی رکعت میں مکمل سورت پڑھنا یادونوں رکعتوں میں الگ الگ سورتوں میں سے پڑھنا لازم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے