بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دورانِ نماز دل میں چھینک کا جواب دینا


سوال

کیا نماز کی حالت میں چھینک کاجواب دل میں دیاہو تو نماز فاسد ہوجاتی ہے؟

جواب

نماز کی حالت میں چھینکنے والے کو " یرحمک الله " کہا تو نماز فاسد ہوجائے گی، البتہ زبان سے تلفظ نہ ہو، بلکہ دل ہی دل میں کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 620)
''و) يفسدها (تشميت عاطس) لغيره (بيرحمك الله ، ولو من العاطس لنفسه لا)، وبعكسه التأمين بعد التشميت۔

(قوله: بيرحمك الله) قيد به؛ لأن السامع لو قال: الحمد لله، فإن عنى الجواب اختلف المشايخ، أو التعليم فسدت، أو لم يرد واحد منهما لا تفسد اتفاقاً، نهر. وصحح في شرح المنية عدم الفساد مطلقاً ؛ لأنه لم يتعارف جواباً. قال: بخلاف الجواب السار بها أي بالحمد له للتعارف، (قوله: ولو من العاطس لنفسه لا) أي لو قال لنفسه: يرحمك الله يا نفسي لا تفسد ؛ لأنه لما لم يكن خطاباً لغيره لم يعتبر من كلام الناس، كما إذا قال يرحمني الله، بحر''۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے