بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا حکم


سوال

نمازِ جنازہ کے بعد دعا مانگنا جائز ہے کہ نہیں?

جواب

جنازہ کی نماز خود دعا ہے اور اس میں میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہی اصل ہے، جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآن و سنت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے؛  اس لیے جنازہ کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنامکروہ و ممنوع اور بدعت ہے، ہاں انفرادی طور پر ہاتھ اٹھائے بغیر دل دل میں دعا کرنا جائز ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 1213):

"ولايدعو للميت بعد صلاة الجنازة؛ لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة".

خلاصة الفتاویٰ (۱ ؍ ۲۲۵ ) رشیدیة:

"لایقوم بالدعاء في قراءة القرآن لاجل المیت بعد  صلاة الجنازة".

فتاویٰ محمودیہ (۸؍۷۰۸ ، ۷۱۰ ) ادارۃ الفاروق:

’’نماز جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد وہیں ٹھہر کر دعا کرنا جیسا کہ بعض جگہ رواج ہے شرعاً  ثابت نہیں، خلاصۃ الفتاویٰ میں اس کو مکروہ لکھا ہے۔

فقہاء نے نماز جنازہ سے فارغ ہوکر بعد سلام میت کے لیے مستقلاً  کھڑے ہو کر دعا کرنے سے منع فرمایا ہے، فقہ حنفی کی معتبر کتاب ’’خلاصۃ الفتاویٰ‘‘  میں اس کو منع کیا ہے، اس دعا کا نیک کام ہونا کیا حضور ﷺ، خلفائے راشدین، ائمہ مجتہدین وغیرہ کو معلوم نہیں تھا؟ آج ہی منکشف ہوا ہے؟ ‘‘ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200713

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے