بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ میں ہاتھ کب چھوڑے جائیں؟


سوال

 نمازِ جنازہ میں جب پہلا سلام پھیرتے ہیں تو کچھ لوگ دایاں ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں اور جب بائیں طرف سلام پھیرتے ہیں تو بایاں ہاتھ چھوڑ دیتے ییں۔کیا یہ طریقہ درست ہے؟اگر نہیں تو درست طریقہ بتا دیں۔

جواب

جنازہ کی نماز میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ کب چھوڑے، اس میں تین  قول ہیں:

ایک قول یہ ہے کہ چوتھی تکبیر کہہ کہ سلام سے پہلے دونوں ہاتھ چھوڑ دے، پھر دونوں طرف سلام پھیر دے ۔ (1)

دوسرا قول یہ ہے کہ چوتھی تکبیر کہہ کر دونوں طرف سلام پھیر نے کے بعد دونوں ہاتھ چھوڑے ۔ (2)

تیسرا قول یہ ہے کہ چوتھی تکبیر کہہ کر دائیں طرف سلام پھیر کر دایاں ہاتھ چھوڑدے اور بائیں طرف سلام پھیر کر بایاں ہاتھ چھوڑ دے ۔ 

ان میں دوسرےقول (چوتھی تکبیر کہہ کر دونوں طرف سلام پھیر نے کے بعد دونوں ہاتھ چھوڑے)کے مطابق اکابر کا عمل اور دار العلوم دیوبند (3) اور  ہمارے دارلافتاء کا فتوی ہے؛ کیوں کہ "سلام "اللہ کا نام ہونے کی وجہ سے ذکرِ مسنون میں داخل ہے، اور ذکرِ مسنون میں ہاتھ باندھے رکھنا چاہیے۔

(1) ولایعقد بعد التکبیر الرابع؛ لأنه لایبقی ذکر مسنون حتی یعقد، فالصحیح أنه یحل الیدین، ثم یسلم تسلیمتین، کذا في الذخیرة. (خلاصة الفتاوی، کتاب الصلاة 1/225)

(2) وهذا مبني على أن الأصل أنه سنة قيام له قرار لا على أنه سنة قيام فيه ذكر مسنون. ( الدر المختارمع الرد1/488)

"قال في الهداية: الأصل أن كل قيام فيه ذكر مسنون يعتمد فيه وما لا فلا، وهو الصحيح، فيعتمد في حالة القنوت وصلاة الجنازة، و يرسل في القومة من الركوع وبين تكبيرات العيد".  (الجوہرۃ النیرۃ1/205) 

(3)فتاوی دارالعلوم دیوبند(5/218)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں