بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی طور پر درود شریف پڑھنا اور پھر اجتماعی دعا کرنا احادیث سے ثابت ہے؟


سوال

کیا نمازِ تراویح کے بعد ایک ساتھ جمع ہوکر درود شریف پڑھنا اس کے بعد اجتماعی دعا کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

نمازِ  تراویح کے بعد  اجتماعی  طور پر درود شریف پڑھنا اور اس کے بعد اجتماعی دعا کرنا قرآن و حدیث و عمل صحابہ و اسلاف سے ثابت نہیں، مذکورہ طریقہ پر درود شریف پڑھنے کو مسنون سمجھنا بے اصل ہے، اور سنت کی طرح اس کا معمول بنانا بھی غلط ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201975

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے