بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز اور غیر نماز میں سجدہ تلاوت کی ادائیگی کا طریقہ


سوال

سجدۂ  تلاوت کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

نماز  کے علاوہ عام حالت میں  تلاوت کرتے ہوئے آیتِ سجدہ تلاوت کی تو سجدۂ  تلاوت  کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں سجدہ تلاوت کی نیت کرے  کہ میں اللّٰہ تعالی کے واسطہ سجدہِ تلاوت کرتا ہوں اور کھڑا ہوکر ہاتھ اٹھائے بغیر   ’’الله أکبر‘‘    کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین مرتبہ ’’سبحان ربي الأعلی‘‘  کہے پھر ’’الله أکبر‘‘  کہتا ہوا سجدے سے سر اٹھائے اور کھڑا ہوجائے، سجدہِ تلاوت میں تشہد اور سلام نہیں ہے.

 اگر بیٹھ کر ’’الله أکبر‘‘ کہتا ہوا سجدہ میں چلا جائے اور سجدہ کے بعد ’’الله أکبر‘‘ کہتا ہوا اٹھ کر بیٹھ جائے کھڑا نہ ہو  تب بھی درست ہے.  لیکن کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور پھر کھڑا ہو جانا افضل ہے۔

اگر تین مکروہ اوقات (سورج کے طلوع، غروب اور استواء کے وقت) میں آیتِ سجدہ پڑھی ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس وقت سجدہ تلاوت نہ کرے، البتہ اگر اسی وقت آیتِ سجدہ پڑھ کر اسی وقت فوراً سجدہ کرلیا تو کراہتِ تنزیہی کے ساتھ سجدہ ادا ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اوقات میں سجدہ تلاوت بلاکراہت ادا کرنا جائزہے۔

اور اگر نماز میں آیتِ سجدہ تلاوت کی ہو تو اس کی ادائیگی کا  طریقہ یہ ہے کہ ’’اللہ اکبر‘‘  کہہ کر سجدے میں چلے جائے، اور سجدہ میں کم از کم تین مرتبہ سجدے کی تسبیحات پڑھ کر دوبارہ قیام میں آجائے، اور باقی نماز مکمل کرلے۔

اور اگر نماز میں  آیتِ سجدہ تلات کرنے کے بعد  آگے مزید تین آیات پڑھ لیں اور سجدہ نہیں کیا تو یہ سجدہ قضا شمار ہوگا، یعنی نماز کے اندر ہی سجدہ تلاوت بھی کرنا لازم ہوگا، اور  تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو بھی لازم ہوگا۔

آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد  تین آیات سے پہلے اگر رکوع کرلیا تو  رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرنے سے سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا، اور اگر آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد آگے  تین آیات  پڑھنے سے پہلے رکوع کیا  اور اس میں نیت نہیں کی تو اس کے بعد نماز کے سجدہ سے بھی سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200183

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں