بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نقدی / کرنسی نوٹ کے بدلے قسطوں پر سونے کی خرید وفروخت


سوال

عمران نے 400000 نقد روپے پر 5 تولے سونا لے لیا اور یہی سونا کامران کو  قسط پر 500000میں 8مہینے کے وقت پردے دیا، کامران ہر مہینے قسط  ادا کرے گا،  اور کچھ رقم نقد بھی ادا کرے گا اور منافع کے بارے میں کامران کو کوئی معلومات نہیں ہیں تو  کیا یہ سود کے زمرے میں آتاہے کہ نہیں، یعنی جائزہے کہ نہیں؟

جواب

         واضح رہے کہ  روپے (کرنسی نوٹ) کے بدلے  سونا یا چاندی کی خریدو فروخت  کے وقت نقد معاملہ  کرنا شرعاً ضروری ہے،  ادھار کا معاملہ  کرنا ( خواہ کل رقم ادھار ہو یا بعض رقم ادھار  ہو ) شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے کہ کرنسی نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے، لہذا  جس طرح سونا چاندی کی خریدوفروخت میں ادھار ناجائز ہے، اسی طرح  روپے کے بدلے سونا چاندی کی خریدوفروخت میں  بھی ادھار کا معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

         لہذا صورتِ مسئولہ میں خرید و فروخت کا مذکورہ معاملہ  شرعاً عقدِ صرف کا معاملہ تھا، اس میں عقدِ بیع کی مجلس میں مبیع اور ثمن  دونوں پر قبضہ ضروری  تھا، اس لیے "کامران"  جب " عمران" سے سوناخریدتے وقت سونے  جو رقم نقد ادا کرے گا، اس کے بدلے اتنے سونے کی خرید وفروخت درست ہوجائے گی اور جس قدر قسطوں پر معاملہ ہوگا  اس میں چوں  کہ سونے کی قیمت پر  عقد  بیع کی مجلس میں قبضہ نہیں ہوا  تو یہ معاملہ شرعاجائز  نہیں ہوا،  اس معاملہ کو ختم کرنا شرعاً ضروری ہے۔ 

        فتاوی شامی میں ہے:

"(ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحًا على الصحيح (إن اتحد جنسًا وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) لما مر في الربا". (5/257، 258، باب الصرف، کتاب البیوع، ط: سعید)          

فتح القدیر  میں ہے:

"(ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق) لما روينا، ولقول عمر -رضي الله عنه-: وإن استنظرك أن يدخل بيته فلاتنظره، ولأنه لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالئ بالكالئ ثم لا بد من قبض الآخر تحقيقًا للمساواة فلايتحقق الربا، ولأن أحدهما ليس بأولى من الآخر فوجب قبضهما سواء (قوله: ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق) بإجماع الفقهاء. وفي فوائد القدوري: المراد بالقبض هنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد، وذكرنا آنفا أن المختار أن هذا القبض شرط البقاء على الصحة لا شرط ابتداء الصحة لظاهر قوله: فإذا افترقا بطل العقد، وإنما يبطل بعد وجوده وهو الأصح. وثمرة الخلاف فيما إذا ظهر الفساد فيما هو صرف يفسد فيما ليس صرفًا عند أبي حنيفة - رحمه الله -، ولايفسد على القول الأصح". (6/260، باب الصرف، ط: رشیدیة)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144103200589

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے