بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1441ھ- 09 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

نفلی قربانی کا حصہ ملانے کے بعد نیت تبدیل کرنا


سوال

میت کی طرف سے ایصالِ  ثواب کے لیے قربانی میں ایک حصہ ڈالا تھا،  اس کے بعد سوچا کہ اس حصہ میں اپنی واجب قربانی کی نیت کر لیتا ہوں، جب کہ میت کی طرف سے ایصالِ  ثواب کے  لیے رقم مسجد میں جمع کرادوں گا تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص میت کے ایصالِ  ثواب کے لیے قربانی کے جانور میں حصہ ملائے اور پھر جانور کے ذبح سے پہلے پہلے اپنی نیت تبدیل کردے یعنی بجائے میت کی جانب سے قربانی کے اپنی قربانی کی ادائیگی کی نیت کرلے تو یہ درست ہے، ایسی صورت میں قربانی ادا ہوجائے گی۔  البتہ ایامِ  نحر میں رقم صدقہ کرنے کے بجائے قربانی کرنا اور اس کا ثواب میت کو پہنچانا زیادہ افضل ہے۔ (فتاوی رحیمیہ 10/30)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے