بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نسب نامہ موجود نہ ہونے کی صورت میں کیا نسب میں شہرت کافی ہے؟


سوال

 ہماری cast قریشی ہے, جب کہ ہمارا خاندانی بیک گراؤنڈ انڈیا کے صوبہ راجستھان کا ہے,  اور ہماری امی کے سگے ماموں دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے, اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے, ان کے نام کے ساتھ بھی ہم نے قریشی لگا دیکھا,  لیکن ہمیں اپنا نسب نامہ معلوم نہیں,  ہمارا پورا خاندان قریشی سے معروف ہے تو سوال یہ ہے کہ ہمارا اپنے نام کے ساتھ قریشی لگانا کیسا ہے؟

جواب

نسب میں شہرت کافی ہے،  بشرط یہ ہے کہ اس کے نہ ہونے پر کوئی واضح ثبوت موجود نہ ہو،  لہذا اگر آپ لوگ آباؤاجداد سے قریشی مشہور ہیں، اور آپ کے قریشی نہ ہونے پر کوئی واضح ثبوت موجود نہ ہو تو  آپ کے قریشی ہونے کے لیے یہ شہرت کافی ہے,  اور آپ اپنے نام کے ساتھ قریشی لگاسکتے ہیں۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 388):
"قال: (ولايجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه إلا النسب.

(قوله: ولايجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه) أي لم يقطع به من جهة المعاينة بالعين أو السماع إلا في النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأمور إذا أخبره بها من يثق به من رجلين عدلين أو رجل وامرأتين، ... وفي الفصول عن شهادات المحيط: في النسب أن يسمع أنه فلان بن فلان من جماعة لايتصور تواطؤهم على الكذب عند أبي حنيفة، وعندهما إذا أخبره عدلان أنه ابن فلان تحل الشهادة، وأبو بكر الإسكاف كان يفتي بقولهما، وهو اختيار النسفي". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے