بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کا شک ہونے کی صورت میں نماز کی قضا کا حکم


سوال

میں نے صبح فجر کی نماز ادا کی پھر سو گیا, ساڑھے دس گیارہ بجے اٹھا ،میں نے اپنی شلوار پر خشک نشان دیکھا، لیکن مجھے رات کے سونے میں اور صبح کے سونے میں احتلام یاد نہیں ۔ کیا میں اپنی صبح کی نماز کا اعادہ کرو ں ؟(میں نے کپڑے بھی دھلے ہوۓ پہنے تھے کہ اس میں پہلے سے نشان کی بھی گنجائش ختم ہو گئی)

جواب

سائل پر فجر کی نماز کی قضا لازم نہیں؛ اس لیے کہ فجر کی نماز میں اس نجاست کے نشان کے ہونے نہ ہونے میں شک ہے جب کہ پاکی یقینی ہے ،اور فقہ کا قاعدہ ہے کہ "الیقین لا یزول بالشک" (یقینی چیز شک سے زائل نہیں ہوتی)۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (1/ 133)
"وَذَكَرَ ابْنُ رُسْتُمَ إنْ وَجَدَ فِي ثَوْبِهِ مَنِيًّا أَعَادَ مِنْ آخِرِ نَوْمَةٍ نَامَهَا؛ لِلشَّكِّ فِيمَا قَبْلَهُ. وَفِي الْبَدَائِعِ: يُعِيدُ مِنْ آخِرِ مَا احْتَلَمَ فِيه".

حاشية رد المختار على الدر المختار (1/ 220)
"وفي السراج: لو وجد في ثوبه نجاسةً مغلظةً أكثر من قدر الدرهم، ولم يعلم بالإصابة لم يعد شيئاً بالإجماع، وهو الأصح". ا هـ
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں