بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

نام کے ساتھ نسبت لگانا


سوال

’’ تخلص‘‘،  نام کے ساتھ قریشی لکھنا کیسا ہے؟ ایک دوست کہتا ہے کہ نام کے ساتھ  ’’قریشی‘‘  لکھنا نسب تبدیل کرنے کے مترادف ہے  جو عظیم گناہ ہے؟  کیا ان کی بات میں کوئی صداقت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص قریشی نہیں تو  اس کے لیے نام کے ساتھ  بطورِ تخلص قریشی لکھنا درست نہیں،  کیوں کہ اس سے  سننے یا پڑھنے والے کو یہ باور کرانا ہے کہ لکھنے والا شخص قریش قبیلے سے تعلق رکھتا ہے،  یوں  یہ طرزِ عمل نسب میں تبدیلی کے مترادف ہے، اردو لغت میں تخلص کی تعریف یوں کی گئی ہے:

’’شاعر کا مختصر نام جسے وہ اپنے اشعار میں اصل نام کی جگہ استعمال کرتا ہے‘‘۔ (اردو لغت 5/ 43 ط: اردو ڈکشنری بورڈ)

نسب میں تبدیلی کرنا یا دوسرے کو  یہ باور کرانا کہ وہ کسی اور نسب سے تعلق رکھتا ہے بڑا گناہ ہے،  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : جو شخص اپنی نسبت اپنے والد کے علاوہ کی طرف کرے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا والد نہیں ہے تو جنت اس شخص پر حرام ہے،  دوسری حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: اپنے والد(کی طرف اپنی نسبت کرنے سے) اعراض نہ کرو، جس شخص  نے اپنے والد کی طرف نسبت کرنے سے بے رغبتی ظاہر  کی اس پر کفر کا اندیشہ ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی شخص  جان بوجھ کر اپنے والد کے علاوہ کی طرف اپنی  نسبت کا دعوی کرے  تو وہ کفر کے قریب پہنچ جاتا ہے اور جو کوئی اپنی نسبت ایسی قوم کی طرف کرے جس میں اس کا نسب نہ ہو تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

"عن سعد وأبى بكرة كلاهما يقول: سمعته أذناي ووعاه قلبي محمدًا صلى الله عليه وسلم يقول: «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام »". ( الصحيح لمسلم ، كتاب الإيمان، باب بيان إيمان من رغب الخ ۱/ ۵۸ ط:قديمي)

 "وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا ترغبوا): أي: لاتعرضوا (عن آبائكم) : أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه): أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر): أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر". (مرقاة المفاتيح ، كتاب الطلاق، باب اللعان (5 / 2170) ط: دار الفكر)

"عن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر ومن ادعى قومًا ليس له فيهم نسب فليتبوأ مقعده من النار". (صحيح البخاري (1 / 1701) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں