بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

نام رکھنے کاحق کس کو ہے؟


سوال

 بچے کا نام کسی کی مرضی سے رکھا جائے ،میری ماں کی یا بچے کی ماں کی؟

جواب

نومولود بچے کا نام رکھنے کا حق والد کا ہے، اسے اختیار ہے کہ نام خود رکھے یا اپنا اختیار کسی کو دے دے،  تاہم اگر بچے کے دادا یا دادی کوئی نام تجویز کریں اور اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو  تو آداب اور اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی خوش نودی  کی خاطر اپنی رائے چھوڑدی جائے، اس معاملہ میں والدین کی  ناراضی مول لینا صحیح نہیں،  ہاں پیار محبت سے ان کو قائل کرنے کی کوشش کرنا منع نہیں ہے، اور یہ نافرمانی میں شمار نہیں ہوگا ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200884

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے