بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

میں نے اسے طلاق دے دی ہے دوبار کہنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مسئلہ ذیل میں:

زید کی دو بیویاں ہیں، دونوں میں اکثر زید کو  لے کر جھگڑا ہوتا رہتا ہے تو  پہلی بیوی کے گھر والوں نے زید سے فون پر کہا کہ تو ایسا کیوں کراتا ہے تو زید بولا: ’’میں نے اس کو طلاق دے دی ہے‘‘. پھر کچھ دن بعد زید سے پوچھا کہ ایسا کیوں  کہا؟ تو بولا: دوسری بیوی کے کہنے پر بول دیا تھا،  پھر دوسری بیوی کے سامنے پوچھا تو بولا: ’’میں نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے‘‘.

لہذا طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کون سی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کا یہ کہنا کہ ’’میں نے اس کو طلاق دے دی ہے‘‘ اس سے پہلی بیوی پر (جیساکہ سیاقِ سوال سے واضح ہوتاہے) ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، پھر دوسری بیوی کے سامنے پوچھنے پر زید کا یہ کہنا کہ ’’میں نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے‘‘  اگر اس سے زید کی نیت پہلی طلاق کی خبر دینی تھی تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور اگر اس سے زید کی نیت پہلی طلاق کی خبر دینی نہ تھی، بلکہ نیت مزید طلاق دینے کی تھی تو پھر اس جملے سے ایک اور طلاقِ رجعی واقع ہوگی، عدت کے اندر اندر رجوع جائز ہے۔

اگر ایک طلاق واقع ہوئی ہے تو  آئندہ کے لیے دو طلاق کا حق حاصل ہوگا، اور دو طلاق کی صورت میں ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"فأما إذا قال لها: أنت طالق، فقال له إنسان: ما ذا قلت؟ فقال: قد طلقتها، أو قال: قلت: هي طالق، فهي طالق واحدة؛ لأن كلامه الثاني جواب لسؤال السائل، والسائل إنما يسأله عن الكلام الأول لا عن إيقاع آخر؛ فيكون جوابه بيانًا لذلك الكلام". (باب من الطلاق، ج:6، ص: 99، ط: دارالمعرفة)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض". (الباب السادس فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 470)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لايثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا". (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 227، ط: سعيد) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144104200907

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں