بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں


سوال

1- میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، اور تین دفعہ کہا، تو کیا طلاق ہوگئی؟ اس دوران نہ اس نے میرا نام لیا اور نہ ہی اپنا نام لیاتھا۔ 

2- عدت واجب ہوگی کیا؟

ہم نے چھپ کر نکاح کیا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ لوگوں نے شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دو گواہوں کی موجودگی میں با قاعدہ ایجاب و قبول کیا تھا اور اس کے بعد جسمانی تعلق بھی قائم کیا تھا، یا آپ دونوں کو خلوتِ صحیحہ میسر ہونے کے بعد آپ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ: ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘  تین مرتبہ کہے تھے تو ان الفاظ کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ آپ اپنے شوہر پر  حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں، رجوع  اور تجدیدِ نکاح جائز نہیں، اور تین ماہ واری بطورِ عدت گزارنا آپ پر لازم ہے۔ عدت کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہیں۔

البتہ اگر صرف نکاح کیا تھا اور اب تک نہ جسمانی تعلق قائم ہوا تھا اور نہ ہی خلوتِ صحیحہ میسر آئی ہو تو اس صورت میں مذکورہ الفاظ پہلی مرتبہ کہنے کے ساتھ ہی نکاح ختم ہوچکا ہے، اس صورت میں آپ پر عدت لازم نہیں ہوگی۔  نیز اس صورت میں رجوع جائز نہیں ہوگا، تاہم باہمی رضامندی سے نئے مہر کے تقرر کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، تجدید نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ صرف دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔

خفیہ نکاح شرعاً پسندیدہ نہیں ہے، ایسے اقدام سے اجتناب چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200470

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں