بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میڈیکل کی جعلی رسید بنوانا


سوال

میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں جاب کرتاہوں، اور وہاں پر میڈیکل کی سہولت ہے  جو کہ میری سیلری کا پانچ پرسنٹ ہے. اور یہ رقم ہم کو میڈیکل سلپس دکھا کر ملتی ہے . ورنہ سال کے اختتام پر یہ رقم مل جاتی ہے. اب میں  کیا جعلی (نقلی ) سلپ بنوا کر یہ پیسے لے سکتا ہوں؟

جواب

کمپنی کی جانب سے آپ کو میڈیکل کی سہولت ادا کرنا ان کی طرف سے تبرع ہے جس کی تحقیق کے لیے انہوں نے ایک شرط لگائی ہے، اس کے لیے جعلی رسید بنوانا دھوکے میں شامل ہے؛ اس لیے جائز نہیں ، البتہ اگر آپ نے کہیں سے علاج کروایا ہو  اور اس کی رسید نہ بنوائی ہو  تو اس کی رسید اسی جگہ سے بنوالیں، یا ادارے والوں کو  یہ صورتِ حال بتا کر رقم لے لیں۔

"عن أنس رضي اللّٰه عنه قال: ما خطبنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم إلا قال: لا إیمان لمن لا أمانة له، ولا دین لمن لا عهد له". (مشکاة المصابیح ۱؍۱۵)
"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا". (سنن الترمذي، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع، ۱؍۲۴۵)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے