بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک اور HBFCL سے house loan (گھر خریدنے کے لئے قرضہ) لینے کا حکم


سوال

میزان بینک سے  House Loan (گھر خریدنے کے لیے لیا جانے والا قرضہ ) لینا جائز ہے؟ HBFCL سےhouse loan  جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کیوں؟ اور اگر جائز نہیں ہے تو کیوں؟ براہِ مہربانی وضاحت فرمائیں!

جواب

ملک کے جمہور علمائے کرام اور مقتدر مفتیانِ کرام کی رائے کے مطابق میزان بینک سمیت دیگر مروجہ  اسلامی بینکوں کے معاملات مکمل طور  پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں،اس لیے میزان بینک سمیت دیگر مروجہ اسلامی بینکوں سے house loan (گھر خریدنے کے لیے قرضہ) لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

HBFCL)  House Building Finance Company Limited ) گھر خریدنے کے لیے سودی قرضہ فراہم کرتا ہے، جب کہ قرآن و حدیث کی رو سے سودی قرضہ کا لین دین ناجائز اور حرام ہے، اس لیے   HBFCL سے  house loan  (گھر خریدنے کے لیے قرضہ) لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»". (صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکلہ، ج:۳ ؍ ۱۲۱۹ ، ط:داراحیاءالتراث العربی)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام. (قوله: كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200655

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے