بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

ایک آدمی کا انتقال ہوگیا۔ ترکہ میں چار مرلہ گھر چھوڑا۔ ورثاء : ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ 

جواب

مذکورہ بالا صورت میں مرحوم کے ترکہ میں سے تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اس پر اگر کوئی قرضہ ہے تو وہ ادا کیا جائے گا، اس کے بعد  اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ سے اس وصیت کو پورا کیا جائے گا۔پھر ما بقیہ کل ترکہ میں 12.50% حصہ بیوہ کا ، 17.50% حصہ ہر بیٹے کو اور 8.75% حصہ ہر بیٹی کا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے