بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم


سوال

میرے شوہر کا انتقال 7 دسمبر کو ہوا ، جائیداد میرے شوہر کی ہے، میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے،  میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں سے ان کے والدین کو حصہ دوں تو یہ میرے اور میرے بچوں کے حصہ میں حق تلفی تو نہیں ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح میت کی بیوہ اور اس کے بچوں کا میت کے ترکے میں حق ہوتاہے، اسی طرح میت کے والدین کا بھی ترکے میں شرعی حق ہوتاہے، اور آپ کے مرحوم شوہر  کے والدین چوں کہ حیات ہیں؛ اس لیے مرحوم شوہر کی مملوکہ جائیداد اور ترکہ میں ا ن کے والدین، بچوں اور آپ کا حق ہے، اور جو شرعی  حصہ والدین کو  دیا جائے گا اس سے آپ کے بچوں اور آپ کی حق تلفی نہیں شمار ہوگی، بلکہ آپ کے مرحوم شوہر کے والدین اگر دلی رضامندی سے اپنا حصہ نہ چھوڑیں تو انہیں حصہ نہ دینا اُن کی حق تلفی ہوگی۔

مرحوم کے ترکہ تقسیم کی صورت یہ ہوگی کہ مرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس بقیہ مال کے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد مرحوم کی بقیہ کل جائیداد منقولہ و غیرمنقولہ کے 120حصے کر کے مرحوم کے والد کو 20حصے، مرحوم کی والدہ کو 20حصے،  بیوہ(یعنی آپ)کو 15حصے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو26 حصےاور بیٹی کو 13حصے ملیں گے۔

یعنی مرحوم کے والد کو  16.66 فیصد ،مرحوم کی والدہ کو 16.66فیصد، بیوہ(یعنی آپ)کو 12.5فیصد، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو21.66فیصداور بیٹی کو10.83 فیصد ملےگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104201088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں