بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

میراث نہ دینا یا کم دینا


سوال

ہمارے بڑے بھائی نے جو والد کا گھر بکوا یا تھا اس کی جو قیمت 15,14 سال پہلے تھی، اسی کے حساب سے سب ورثاء کا حصہ ہو گا یا آج کی قیمت کے حساب سے؟ ہم چار بہنیں اور دو بھائی ہیں جن میں سے دو بہنو ں کی شادی بھائی نے کی تھی اور شادی پر ایک بہن کو جہیز میں جو زیور دیا وہ ضرورت پڑنے پر لے بھی لیا، ایک بہن کو کچھ نہیں دیا، یہ بات بھی بولی جاتی ہے کہ شادیاں کردیں، اب باپ کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہے، لیکن شادی میں جو دیا وہ ضرورت پڑنے پر لے بھی لیا۔ شرعی حکم بتائیں!

جواب

14, 15 سال پہلے مذکورہ مکان جب فروخت کیا گیا تھا اور جو رقم حاصل ہوئی تھی وہی رقم ورثاء میں شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی۔

باقی بڑے بھائی نے بہنوں  کی شادی میں جو سامان یا زیور بہنوں کو دیا وہ بہنوں کے حصہ سے منہا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو  غیر ضروری اخراجات کیے وہ بہنوں  کی میراث مٰیں سے منہا کرنا جائز نہیں، منہا کرنے کی صورت میں غاصب شمار ہوگا اور جس بہن سے  زیور واپس لے لیا اس کی بھی بہن حق دار ہے،  نیز ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ پورا دیا جانا ضروری ہے، بیٹیوں کی شادی کی وجہ سے باپ کی میراث سے ان کا حصہ ختم نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201688

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے