بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، چار لڑکے چار لڑکیوں میں میراث تقسیم کرنے کا طریقہ


سوال

ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، پس ماندگان میں ایک بیوہ 4 لڑکے اور 4 لڑکیاں ہیں،  مرحوم کی میراث میں 3 بلڈنگ ہیں، جس میں سے دو کا کرایا آتا ہے اور اس کے علاوہ کچھ سونا، موبائل اور گھڑی وغیرہ ہیں۔ ان کو ورثاء میں کیسے تقسیم کیا جائے؟ اور مرحوم کے لڑکوں میں سے ایک لڑکا ناچنے کی طرف مائل ہوگیا ہے اور اپنا حلیہ بھی عورتوں جیسا بنا لیا ہے اور والد کے گھر میں نہیں رہتا ۔ اور ایک بیٹی معمولی طور پر ذہنی کم زور ہے، یعنی بالکل عام لوگوں کی طرح اس کا ذہن نہیں ہے۔ میراث کے حوالے سے ان کے  لیے بھی جو حکم ہو اس سے مطلع فرمائیں۔

جواب

 مذکورہ ورثاء میں تقسیمِ میراث کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ (مرحوم پر اگر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد، اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے نافذ کرنے کےبعد) کل ترکہ کو 96 حصوں میں تقسیم کرکے 12 حصے بیوہ کو،14 حصے ہر بیٹے کو اور 7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔

ورثہ اگر چاہیں تو مذکورہ ضابطے کے مطابق جائیداد کو مکمل طور پر تقسیم کرلیں، ورنہ کرائے کو مذکورہ بالا تناسب سے تقسیم کرلیں۔ مرحوم کی ذاتی استعمال کی اشیاء کی تقسیم کا ضابطہ بھی یہی ہے، تاہم ان اشیاء کی تقسیم میں یہ اختیار ہے کہ اولاد باہمی رضامندی سے یہ چیزیں تقسیم کرلیں، لیکن اگر ذہنی طور پر پس ماندہ بہن بالکل ہی نا سمجھ ہے تو اس کا حصہ بہرصورت ادا کرنا ہوگا، اس کی رضامندی کا اعتبار نہیں ہوگا۔

اگر ایک بیٹا ناچنے کی طرف مائل ہوگیا ہے اور ایک بیٹی ذہنی مریض ہے تو  بیٹے کا فسق وفجور میں ابتلاء اور بیٹی کامرض، میراث میں حصے ملنے سے مانع نہیں ہے،  ان کو مندرجہ بالا طریقے کے مطابق حصہ دیا جائے گا ،بیٹی اگر خود سمجھ نہ رکھتی ہو تو جس کی کفالت میں ہو وہ اس کے حصے کا امین بن جائے اور مکمل دیانت داری کے ساتھ اس حصے کو اس بہن کی ضروریات پر خرچ کرے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں