بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

اجتماع گاہ کے میدان میں صفوں کے درمیان اتصال کا حکم


سوال

بنگلادیش میں ٹونگی کے میدان میں عالمی اجتماع ہوتا ہے، یہ میدان بہت بڑا ہے، لاکھوں افراد اس میں جمع ہوتے ہیں،  تین دن تک نماز باجماعت ہوتی ہے،  نماز  کے  لیے مسجد کی طرح صفیں بنائی ہوئی ہیں، امامت کے لیے ایک ممبر بھی ہے،  مگر جماعت بڑی ہونے کی وجہ سے بعض لوگ پیچھے سے اقتدا کرتے ہیں، درمیان میں تین چار صف چھوڑ دیتے ہیں اس میں اتصال بھی نہیں ہوتا ہے، اب ان کی اقتدا صحیح ہوئی یا نہیں؟ اس بارے میں علمائے بنگلہ دیش میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک جگہ سے فتویٰ بھی صادر ہو چکا کہ یہ میدان مسجد کے حکم میں ہے؛ لہذا درمیان میں صفیں چھوڑ دینا زیادہ سے زیادہ مکروہ ہوگا، نماز ہو جائے گی۔ اور ایک جماعت عدمِ جواز کی قائل ہے؛ کیوں کہ یہ میدان ہے۔

  اس مسئلہ میں آپ لوگوں کے کیا راۓ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اقتدا کے درست ہونے کے لیے  امام اور مقتدی کی جگہ  کا متحد ہونا شرط ہے خواہ حقیقتاً متحد ہوں یا حکماً، مسجد ، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد  یہ تمام جگہ  بابِ اقتدا میں متحد ہیں، لہٰذا مسجد ، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد میں  اگر امام اور مقتدی، یا مقتدیوں کی صفوں کے درمیان دو صفوں کی مقدار  یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو   تب  بھی صحتِ اقتدا سے مانع نہیں ہوگا، اور نماز ادا ہوجائے گی، مگر بلاضرورت  فاصلہ چھوڑنا مکروہِ تحریمی ہے۔

البتہ اگر امام اور مقتدی اور دوسری صفوں کے درمیان شارع عام ہو ( یعنی ایسا کشادہ راستہ ہو  جہاں سے گاڑی وغیرہ گزرسکے) یا ایسی وسیع نہر ہو جس سے چھوٹی کشتی گزرسکے، یا حوض شرعی (دہ در دہ)  ہو تو یہ اشیاء (شارع عام، وسیع نہر، حوضِ شرعی) مسجد کے اندر بھی اتصال سے مانع ہیں، اس لیے ان رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے اقتداصحیح نہیں ہوگی۔

اور  مسجد سے باہر میدان  یا صحراء وغیرہ میں اگر جماعت ہورہی ہو  تو چوں کہ یہ مکان حقیقتاً متحد نہیں ہیں؛ اس لیے حکماً اتصال ( یعنی صفوں کا متصل ہونا ) ضروری ہے، لہٰذا اگر امام اور  مقتدی کے درمیان  دو صفوں کے بقدر ( یعنی تقریباً آٹھ فٹ) یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو تو یہ بھی صحت اقتداسے مانع ہوگا، اور ان لوگوں کی نماز ادا نہیں ہوگی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اجتماع گاہ جس میں عارضی طور پر صفیں اور ممبر بنایا جاتا ہے یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے، اس لیے اگر ان میں اتصال نہ ہو اور دو صفوں سے زیادہ (تقریباً 8 فٹ) درمیان میں فاصلہ ہو تو  جن لوگوں کےحق میں اتصال نہیں پایا جائے ان کی اقتدا درست نہیں ہوگی، اس لیے صفوں کے اتصال کا باقاعدہ نظم بنانا چاہیے، اور جن لوگوں کی بالکل ترتیب نہ بنے وہ اپنی علیحدہ جماعت کرکے نماز ادا کرلیں۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما.

(قوله: واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده، كما في الإمداد، وسيأتي". (1 / 549، 550، باب الامامۃ، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(ويمنع من الاقتداء) صف من النساء بلا حائل قدر ذراع أو ارتفاعهن قدر قامة الرجل، مفتاح السعادة أو (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولو زورقًا ولو في المسجد (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدًّا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقًا. 

(قوله: تجري فيه عجلة) أي تمر، وبه عبر في بعض النسخ. والعجلة بفتحتين. وفي الدرر: هو الذي تجري فيه العجلة والأوقار اهـ وهو جمع وقر بالقاف. قال في المغرب: وأكثر استعماله في حمل البغل أو الحمار كالوسق في حمل البعير (قوله: أو نهر تجري فيه السفن) أي يمكن ذلك، ومثله يقال في قوله: تمر فيه عجلة ط. وأما البركة أو الحوض، فإن كان بحال لو وقعت النجاسة في جانب تنجس الجانب الآخر، لايمنع وإلا منع، كذا ذكره الصفار إسماعيل عن المحيط. وحاصله: أن الحوض الكبير المذكور في كتاب الطهارة يمنع أي ما لم تتصل الصفوف حوله كما يأتي (قوله ولو (زورقًا)) بتقديم الزاي: السفينة الصغيرة، كما في القاموس. وفي الملتقط: إذا كان كأضيق الطريق يمنع، وإن بحيث لايكون طريق مثله لايمنع سواء كان فيه ماء أو لا ...

(قوله: ولو في المسجد) صرح به في الدرر والخانية وغيرهما (قوله: أو خلاء) بالمد: المكان الذي لا شيء به قاموس". (1/584، 585، باب الامامۃ، کتاب الصلوٰۃ، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار، هكذا في شرح الطحاوي. إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقًا لايمر فيه العجلة والأوقار لايمنع وإن كان واسعًا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع،كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة. هذا إذا لم تكن الصفوف متصلةً على الطريق، أما إذا اتصلت الصفوف لايمنع الاقتداء ... والمانع من الاقتداء في الفلوات قدر ما يسع فيه صفين وفي مصلى العيد الفاصل لايمنع الاقتداء وإن كان يسع فيه الصفين أو أكثر وفي المتخذ لصلاة الجنازة اختلاف المشايخ وفي النوازل جعله كالمسجد. كذا في الخلاصة.

(ومنها نهر عظيم) لايمكن العبور عنه إلا بالعلاج كالقنطرة وغيرها، هكذا في شرح الطحاوي. فإن كان بينه وبين الإمام نهر كبير يجري فيه السفن والزوارق يمنع الاقتداء وإن كان صغيرا لاتجري فيه لايمنع الاقتداء هو المختار، هكذا في الخلاصة. وهو الصحيح. ... وإن كان على النهر جسر وعليه صفوف متصلة لايمنع صحة الاقتداء لمن كان خلف النهر وللثلاثة حكم الصف بالإجماع وليس للواحد حكم الصف بالإجماع، وفي المثنى اختلاف على ما مر في الطريق إن كان بينهما بركة أو حوض إن كان بحال لو وقعت النجاسة في جانب يتنجس الجانب الآخر لايمنع الاقتداء وإن كان لايتنجس يمنع الاقتداء، هكذا في المحيط". (1 / 87،  الباب الخامس فی بیان مقام الامام والماموم،ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد". (1/ 88،  الباب الخامس فی بیان مقام الامام والماموم،ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے