بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی میں خلع ہونے کی صورت میں سونے اور پیسے کی واپسی کا حکم


سوال

بیوی غیر شرعی عذر کے یا کو ئی بھی جھوٹا مسئلہ بنا کر شوہر کا گھر چھوڑ دےاور بھائیوں کے گھر آباد رہے اور خلع کے وقت حق مہر سے تو دست بردار  ہو جائے مگر جو سونا پیسے لے کر گئی ہے اس سے بھی انکار کر دے تو کیا خلع ہو جائے گئی، اور کیا مرد کو وہ سونا لوٹانے کی پابند ہے کہ نہیں؟

جواب

خلع دیگر مالی معاملات کی طرح  ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر  مالی معاملات  معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اسی طرح خلع  معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر  یک طرفہ  طور پر خلع  معتبر نہیں ہے، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔

اگر  میاں کی بیوی کی رضامندی سے خلع ہوا  تو اس میں جو عوض طے ہو وہی بیوی پر  شوہر کو ادا کرنا ذمہ لازم ہوگا، اگر خلع مہر کے عوض ہوا ہو تو بیوی پر صرف شوہر کا ادا کیا ہوا مہر لوٹانا ضروری ہے،  باقی بیوی جو سونا لے گئی ہے اگر وہ اسی کی ملکیت ہے اور خلع  میں اس سونے کی ادائیگی کی شرط بھی نہیں تھی تو  بیوی پر اس کی ادائیگی لازم نہیں ہے، وہ اسی کی ملکیت ہے، اور اگر سونا بیوی کی ملکیت نہ ہو، بلکہ شوہر کا ہو یا شوہر کے گھروالوں نے اپنی بہو کو صرف استعمال کے طور پر دیا ہو تو  اس صورت وہ سونا چوں کہ بیوی کی ملکیت ہی نہیں ہے، اس لیے (خلع میں شرط ہو یا نہیں) اس کو واپس کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں