بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مہر کی ادائیگی کا حکم


سوال

میرے نکاح کے وقت مہر کی رقم غیرمعجل مکمل پانچ لاکھ رکھی گئی، میری استطاعت گنجائش اتنی نہیں کہ میں یہ ساری رقم ادا کر سکوں جب کہ ابھی تک میں نے کسی قسم کا مہر ادا نہیں کیا، شادی کے دو سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ میر ےلیے شرعی کیا حکم ہے ؟

جواب

مہر  کی رقم چوں کہ غیر معجل ہے؛ اس لیے اب  تک ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے آپ گناہ گار نہیں ہیں۔  البتہ مہر مقرر کرنے کے حوالے سے شریعت کا مزاج یہ ہے کہ حیثیت کے مطابق مہر رکھنا چاہیے؛ تاکہ مطالبہ کے وقت ادائیگی آسان ہو، صرف دکھلاوے کے لیے بڑھا چڑھاکر مہر مقرر نہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201729

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے