بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مہر کتنا ہونا چاہیے؟


سوال

مہر کتنا ہونا چاہیے؟

جواب

مہر بیوی کا حق ہے، جو کہ اس عورت کی قریبی دادھیالی ہم صفت لڑکیوں کے مہر کے برابر ہونا چاہیے۔ باقی اگر لڑکی  اور اس باپ وغیرہ کی اجازت سے کچھ کم رکھا جائے یا لڑکے کی اجازت سے زیادہ رکھا جائے تو  ایسا کرنا بھی جائز ہے۔ 

البتہ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے، اور دس درہم میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہوتی ہے، اور یہ موجودہ گرام کے حساب سے تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔

"عن جابر، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم قال: لاصداق دون عشرة دراهم".(سنن الدار قطني، النکاح۳/۱۷۳، رقم:۳۵۶۰)
"أقله عشرة دراهم؛ لحدیث البیهقي وغیره: لا مهر أقل من عشرة دراهم … ویجب الأکثر أي بالغاً ما بلغ منها إن سمیٰ الأکثر". (الدر المختار مع الشامي، کتاب النکاح، باب المهر، ۳/۱۰۱- ۱۰۲)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے