بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مکروہ کے ارتکاب کا حکم


سوال

کیا مکروہ چیز کا استعمال کرنا جیسے کہ مونچھ بڑی رکھنا یا کوئی مکروہ چیز کھانا پینا حرام ہے یا اس کا کوئی گناہ ہے؟

جواب

مکروہ  کی دو قسمیں ہیں: مکروہِ تحریمی اور مکروہِ تنزیہی۔

مکروہِ تحریمی حرام کے قریب ہوتا ہے،  اس کا کرنا، ناجائزاور موجبِ سزا ہے، اور اس کے نہ کرنے والے کو ثواب ملتا ہے۔  جب کہ  مکروہِ تنزیہی حلال کے قریب ہوتا ہے، یعنی اس  کا کرنا با عثِ عقاب نہیں ہے، لیکن نہ کرنے پر ثواب ملتا ہے۔

لہذا مکروہ کے مرتکب کو گناہ ملنے یا نہ ملنے کا مدار اس کے تحریمی یا تنزیہی ہونے پر ہے، اگر مکروہِ تحریمی ہے تو اس کے ارتکاب پر گناہ ملےگا، مکروہِ تنزیہی کے ارتکاب پر گناہ نہیں ملتا، تاہم کسی گناہ کو ہلکا سمجھ کر اس کا ارتکاب کرنا اسے بڑا گناہ بنادیتا ہے، جس پر اللہ رب العزت کی جانب سے سزا کا قانون ہے ۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (22 / 74):

"قال رحمه الله : ( المكروه إلى الحرام أقرب ) ونص محمد أن كل مكروه حرام، وإنما لم يطلق عليه لفظ الحرام؛ لأنه لم يجد فيه نصاً قطعياً، فكان نسبة المكروه إلى الحرام عند محمد كنسبة الواجب إلى الفرض، وعن الإمام وأبي يوسف أنه إلى الحرام أقرب، وهذا الحد للمكروه كراهة تحريم، وأما المكروه كراهة تنزيه فإلى الحلال أقرب، هذا خلاصة ما ذكروه في الكتب المعتبرة".

شرح التلويح على التوضيح لمتن التنقيح في أصول الفقه (1 / 20):

"وإن كان تركه أولى فمع المنع عن الفعل بدليل قطعي حرام، وبدليل ظني مكروه كراهة التحريم، وبدون المنع عن الفعل مكروه كراهة التنزيه، هذا على رأي محمد رحمه الله، وهو المناسب هاهنا؛ لأن المصنف جعل المكروه تنزيهاً مما يجوز فعله، والمكروه تحريماً مما لايجوز فعله، بل يجب تركه كالحرام، وهذا لايصح على رأيهما، وهو أن ما يكون تركه أولى من فعله فهو مع المنع عن الفعل حرام، وبدونه مكروه كراهة التنزيه إن كان إلى الحل أقرب بمعنى أنه لايعاقب فاعله لكن يثاب تاركه أدنى ثواب، وكراهة التحريم إن كان إلى الحرام أقرب بمعنى أن فاعله مستحق محذوراً دون العقوبة بالنار كحرمان الشفاعة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 550):

"وأما طرفا الشارب وهما السبالان، فقيل: هما منه، وقيل: من اللحية، وعليه فقيل: لا بأس بتركهما، وقيل: يكره؛ لما فيه من التشبه بالأعاجم وأهل الكتاب، وهذا أولى بالصواب".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200438

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے