بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مکان کی تعمیر کے لیے زکات دینا


سوال

ایک غریب خاندان نےکچی آبادی میں اپنا پرانا غیر لیز شدہ مکان کچھ مالی وسائل اکھٹا کر کے اور کچھ ادھار لے کر اس کو پکا کرنا شروع کیا،  مگر مہنگائی کے باعث وہ تمام رقم اس مکان کی تکمیل کے لیے ناکافی رہی، اور اب بھی کافی رقم درکار ہے،  مگر وسائل نہیں ہیں، میاں بیوی بچے ملاکر پانچ افراد ہیں ، ماہانہ آمدنی ۲۵۰۰۰ہے، گھر یلو اخراجات اور بیماری کے اخراجات کے باعث ماہانہ آمدنی میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے اور پس انداز نہیں ہو سکتا۔  گزارش ہے کہ شریعت کی رو سےایسی صورت میں کیا زکات کی رقم سے اس خاندان کے مکان کی تکمیل میں مدد کی جا سکتی ہے؟  اور کتنی رقم اس کام میں صرف کی جا سکتی ہے؟

جواب

اگر مذکورہ گھر والے ضرورت مند اورمستحقِ زکاۃ  ہیں، یا ان میں سے کوئی شخص مستحقِ زکاۃ  ہے (یعنی اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد  نصاب   یعنی  ساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر  رقم یا مالِ تجارت نہیں ہے، اور نہ ہی  اس  قدر ضرورت سے زائد  سامان ہے کہ جس کی مالیت نصاب کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ سید ، ہاشمی ہے)  تو اس شخص کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے، اور اس کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔   اگر کسی کے پاس  کچھ زیور اور ضرورت سے زائد  کچھ نقدی ہو تو اگر دونوں کی قیمت ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر بنتی ہے تو اس کو زکاۃ دینا جائز نہیں ہے، اگر اس سے کم قیمت بنتی ہے اس کو زکاۃ دینا جائز ہوگا۔

البتہ زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زکاۃ کی رقم مستحق شخص کو مالک بناکر دی جائے، زکاۃ کی رقم سے تعمیر کروانے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اس خاندان میں مستحقِ زکاۃ شخص ہونے کی صورت میں اسے  رقم کا مالک بناکر زکاۃ ادا کردی جائے،  جس سے وہ مکان کی تعمیر  مکمل کرالے،  مکان کی تعمیر مکمل ہونے میں جتنی رقم کی ضرورت ہے یک مشت اس قدر اس کو دے سکتے ہیں اگرچہ وہ نصاب سے بڑھ جائے۔

'' فتاوی عالمگیری'' میں ہے:

" لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولايشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. .......ولايدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية ۔ ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي". (1/189، باب المصرف، کتاب الزکاة، ط: رشیدیه) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200756

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے