بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

مکان خریدنے کے لیے جمع شدہ رقم پر زکاۃ لازم ہے؟


سوال

 کیا مجھ پر زکات فرض ہے ؟ میری تنخواہ بیس ہزار ہے، جس سے گزر بسر مشکل سے ہوتا ہے اور میرا اپنا گھر نہیں ہے، کرایہ پر رہتا ہوں،  میرے والد نے ایک پلاٹ خریدا جو کہ 34لاکھ کا بیچا اور گھر خریدنے کی جدوجہد میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے،  مگر کوئی کامیابی نہیں ملی،  ہم 2بھائی اور 2بہنیں ہیں.اور ہماری شادی کی عمریں ہیں،  4.5مرلے کا گھر بنانے کے لیے بھی پیسے کم پڑ رہے ہیں تو  کیا اس ساری صورتِ  حال کے پیشِ نظر ہم پر زکاۃ فرض ہے؛ کیوں کہ ہم نے وہ پیسہ صرف گھر خریدنے کی نیت سے جمع کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پلاٹ فروخت کرنے سے جو رقم حاصل ہوئی ہے؛ چوں کہ وہ نصابِ زکاۃ سے زائد ہے، لہٰذا اگر اسے بیچنے کے بعد اس پر سال بھی گزرچکا ہےتو اس پر زکاۃ واجب ہے، بظاہر اس رقم کے مالک آپ کے والد صاحب ہیں، تو ان کے ذمے اس رقم کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوچکا ہے؛  کیوں کہ مکان خریدنے کی نیت سے رقم جمع کرکے محفوظ رکھنا زکاۃ واجب ہونے میں مانع نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية - (5 / 33):
"( وَمِنْهَا: كَوْنُ الْمَالِ نِصَابًا ) فَلَاتَجِبُ فِي أَقَلَّ مِنْهُ، هَكَذَا فِي الْعَيْنِيِّ شَرْحِ الْكَنْزِ". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200616

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے