بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

موبائل فون کال کے ذریعہ بچے کے کان میں اذان دینے کا حکم


سوال

 بچے کے کان میں فون کے ذریعہ اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز سنت ادا ہوگی یا نہیں؟

جواب

بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا مستحب ہے، اور اس کی من جملہ  حکمتوں میں سے یہ ہے کہ   کلماتِ اذان سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے، گویا بچے کو شیطان کے اثر سے بچانا مقصود ہے، اور اسی طرح کلماتِ اذان و اقامت توحیدِ خالص اور ایمانیات کے اقرار کے ساتھ ساتھ اسلام کے سب سے اہم رکن نماز کی دعوت پر مشتمل ہیں،تو بچے  کے دنیا میں  آنے کے بعد  اس کے پردۂ سماعت سے ان کلمات کا گزارنا دراصل اس کے دل کی گہرائیوں میں ایمان وعمل کے جذبات جاگزین کرنے میں بہت مؤثر ہے، اور یہ فضیلت اور حکمت ریکارڈنگ اذان سے حاصل نہیں ہوگی، اس لیے کسی  نومولود کے کان میں اذان واقامت خود دینا چاہیے یا کسی نیک شخص سے دلوانی چاہیے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ :       جب بچہ پیدا ہو تو نہلانے کے بعد بچہ کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائیں  اور قبلہ رُخ ہوکر  پہلے بچے کے دائیں کان میں اذان اور پھر  بائیں کان میں اقامت کہیں ۔ "حي علی الصلاة" اور  "حي علی الفلاح" کہتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ بھی پھیریں، البتہ دورانِ اذان کانوں میں انگلیاں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔

بچے کے کان میں اذان دینے کا سنت اور متوارث طریقہ  یہی ہے، اور عبادات کے باب میں احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ حتی الامکان اس کی اصل شکل کو باقی رکھا جائے، چنانچہ موبائل فون کال کے ذریعہ بچہ کے کان میں اذان دینے سے یہ سنت طریقہ جو نسل در نسل چلا آرہا ہے فوت ہوجائے گا، اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، اگر کسی شدیدعذر  کی وجہ سے بچے کے کان میں براہِ راست فوری طور پر اذان نہ دی جاسکتی ہو تو موبائل فون کال کے ذریعہ اذان دینے کے بجائے عذر کے زائل ہونے کا انتظار کرلیا جائے اور عذر زائل ہوتے ہی براہِ راست بچے کے کان میں اذان دے دی جائے، اس لیے کہ جو برکت اور اثرات براہِ راست بچے کے کان میں اذان دینے میں ہے وہ موبائل فون کال کے ذریعہ اذان دینے میں نہیں ہے۔ باقی  موبائل فون کال کے ذریعہ بچے کے کان میں اذان دینے سے اس لیے منع نہیں کیا جارہا کہ یہ اصل آواز نہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت کے طریقہ متوارثہ میں تغیر و تبدل نہ آجائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 385):

"(لا) يسن (لغيرها) كعيد

 (قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم..."الخ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 387):

"(ويلتفت فيه) وكذا فيها مطلقاً، وقيل: إن المحل متسعاً (يميناً ويساراً) فقط؛ لئلايستدبر القبلة (بصلاة وفلاح) ولو وحده أو لمولود؛ لأنه سنة الأذان مطلقاً.

 (قوله: ولو وحده إلخ) أشار به إلى رد قول الحلواني: إنه لايلتفت لعدم الحاجة إليه ح. وفي البحر عن السراج: أنه من سنن الأذان، فلايخل المنفرد بشيء منها، حتى قالوا في الذي يؤذن للمولود: ينبغي أن يحول. (قوله: مطلقاً) للمنفرد وغيره والمولود وغيره ط". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے