بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

موبائل سم کمپنی کا اکاؤنٹ کھلوانا اور اس پر فری منٹس ملنا


سوال

سم کمپنی میسج بھیجتی ہے کہ ہمارے  اکاونٹ میں ۱۰۰۰ روپے رکھو جب تک رقم ہوگی تو دن میں آپ  کو ۵۰ منٹ دیے جائیں گے، نکلوانے پر صرف ۱۸ روپے کٹوتی ہوگی، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

سم میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے صارف جو 1000 روپے جمع کراتا ہے  درحقیقت یہ قرض ہے اور کمپنی اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر اکاؤنٹ ہولڈر کو یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہے ، یہ قرض پر مشروط نفع ہے جو   شرعاً ناجائز ہے۔ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع اٹھانے کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے۔  چوں کہ مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے ؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا جائز نہیں ہے۔ (مصنف بن أبی شیبہ، رقم: ۲۰۶۹۰ ) 

'' فتاوی شامی '' میں ہے: '' وفي الأشباه: کلّ قرضٍ جرّ نفعاً فهو حرام''۔ ( ج: ۵، ص: ۱۶۶، ط: سعید)

اگر کوئی کمپنی اس طرح کا '' ایزی پیسہ اکاؤنٹ'' بنائے جس میں صرف اصل جمع کردہ رقم کے برابر ہی استفادہ کیا جاسکتاہو، اضافی کوئی نفع نہ دیا جاتاہو تو  ایسے اکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201455

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے