بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

ملٹی لیول ماکیٹنگ کی ایک صورت


سوال

پاکستان میں ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے، جس کا نام شئیر بزنس(share business) ہے ، اس کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ  کمپنی کے ساتھ کام کرنے کے لیے سب سے پہلے ۱۰۰۰ روپے پر رجسٹرڈ کارڈ بنانا ہوگا، اس کے بعد کمپنی کے فرنچائز سے شاپنگ کرکے پوائنٹس حاصل کرنا ہے، شاپنگ کرتے کرتے 5000 پوائنٹس پورا کرکے کمپنی کے ساتھ ( % ۱۰) شئیر ہولڈر ہوجاتاہے، اس کے بعد آپ کو تین بندے بھی اسی طریقے سے % ۱۰ کرنا ہیں کہ جس سے پہلے والا بندہ خودبخود %۱۵ ہوجائے گا، اس طرح جب یہ تین بندے %۱۵ فیصد ہوجائیں  تو وہ پہلے والا بندہ % ۲۰ ہوجائے گا، %۲۰ ہونے پر کمپنی لیپ ٹاپ دیتی ہے، %۳۰ ہونے پر موٹر سائیکل دیتی  ہے اور %۳۴ پر ماہانہ 50000 کا گلوبل بونس دیتی ہے، اور جتنی ترقی ہوگی، اتنے زیادہ پیسے ملیں گے۔ لہٰذا پہلا بندہ اپنے لیے ۳ بندے %۱۰ کرے گا، اس طرح وہ تین بندے اپنے لیے تین تین بندے تلاش کریں گے، اور اسی تین میں ہرایک اپنے لیے تین تین تلاش کریں گے، تو یہ (Indirect) کی وجہ سے پہلے بندے کو فائدہ زیادہ ہوگا۔

اس میں کمپنی نے کوئی پیسہ نہیں لگایا،  بلکہ اس فرنچائسز میں صرف یہ طریقہ ہی چلتا ہے، اور پاکستان میں اس کمپنی کے 20 فرنچائسز ہے، فرنچائز سے شاپنگ کرتے کرتے کسٹمر کو ایک روپے رعایت کے بدلے ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے ، جب اس فرنچائس میں 50000 پوائنٹس جمع ہوجاتے ہیں، تو یہ فرنچائس والے اُس کمپنی کو اس (۵۰ ھزار پوائنٹس) کے بدلے 50000 روپے بھیجتے ہیں۔ اب ان پیسوں میں کسٹمر کو کمیشن دیا جاتا ہے، اس طور پر کہ ۵۰ ہزار میں 9 فیصد یعنی (4500)کمپنی والے لیتے ہیں جب کہ باقی 91 فیصد یعنی (45500) روپے اُن کسٹمر پر تقسیم کیے جاتے ہیں جو کمپنی میں (%۱۰)ہو، یہ نیٹ ورک کا کاروبار ہے، آیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے ، تو اس کے جائز کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟  کیونکہ بہت سے لوگوں نے اس میں پوائنٹس جمع کیے ہیں، اور ناجائز ہونے کی صورت میں جو لوگ اب تک اس میں شریک ہیں، ان لوگوں کو یہ رقم لینا چاہیے یا نہیں؟

جواب

کمپنی کا طریقہ کاروبار ملٹی لیول مارکیٹنگ کا ہے جوکہ ناجائز ہے، اس لیے مذکورہ معاملے اجتناب ضروری ہے، اگر کوئی پہلے یہ معاملہ کرکے فوائد حاصل کرچکا ہو تو اگر رقم یا اشیاء بعینہ موجود ہوں تو بہتر یہ ہے کہ تمام رقم یا اشیاء ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردے، اور اگر استعمال کرچکا ہے تو بالواسطہ جو لوگ چین میں شامل ہوئے ہیں ان کے عوض جتنے منافع حاصل کیے اس کے بقدر  ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحقِ زکاۃ کو دے دے۔  اس کی مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات جلد 4 ص 233  نیز درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

pay diamond کمپنی میں سرمایہ کاری کرکے نفع کمانافقط واللہ اعلم

 

 


فتوی نمبر : 144012200281

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے