بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مقروض شخص کا عمرہ کے لیے جانا


سوال

اگر کوئی شخص سعودی عرب میں کام کر رہا  ہو اور وہ مقروض ہو، اس کے پاس اتنی رقم بھی نہ ہو کہ وہ قرض ادا کر سکے، لیکن چوں کہ ادھر سے اس کے لیے عمرہ کرنا اتنا مشکل یا مہنگا نہیں ہے، کیا اس کا یہاں سے عمرہ ہوسکتا ہے؟

جواب

مقروض شخص کے لیے نفلی کا موں میں خرچ کرنے سے بہتر تو شرعاً یہی ہے کہ پہلے اپنے  واجب الادا قرض کی  ادا ئیگی کا انتظام کرے، پھر اگر وسعت ہو تو نفلی کاموں میں خرچ کرے ، لیکن اگر کوئی نفلی کام بغیر خرچہ کے یا معمولی خرچہ سے ادا ہوسکتا ہو  اور قرض کی ادائیگی میں اس کی وجہ سے تاخیر کا اندیشہ نہ ہو یا قرض خواہ خوش دلی سے مہلت دے رہاہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

چناں چہ بصورتِ مسئولہ چوں کہ مقروض وہیں سعودیہ میں  مقیم ہے اور وہاں سے عمرہ کرنے میں کوئی خاص خرچہ بھی نہیں؛ لہٰذا اس کاعمرہ کے لیے جانا جائز ہے، اس میں حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200234

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے