بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا امام کے پیچھے قومہ اور جلسہ وغیرہ میں مسنون دعائیں پڑھنا


سوال

امام کے پیچھے قومہ اور جلسہ میں "حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْهِ" پڑھنا اور دوسری مسنون دعائیں پڑھنے کا کیاحکم ہے?

جواب

منفرد اور مقتدی کے لیے نمازمیں (خواہ فرض نماز ہو یا نفل) دو سجدوں کے درمیان جلسہ یا قومہ میں اور قعدہ اخیرہ وغیرہ میں اگر وقت مل جائے  تو قرآن وحدیث سے ثابت شدہ دعائیں مانگنا جائز ہے۔ البتہ امام کے لیے  نبی کریمﷺ  کی ہدایت یہ ہے کہ امام ہلکی پھلکی  نماز پڑھائے،  کیوں کہ جماعت کی نماز میں مریض اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، اس لیے ان کا لحاظ کرنا   چاہیے ، تاکہ مقتدیوں  زحمت ، مشقت اور تکلیف نہ ہو۔ 

      فتاوی  شامی میں ہے:

"قال أبو يوسف: سألت الإمام: أيقول الرجل إذا رفع رأسه من الركوع والسجود: اللهم اغفر لي؟ قال: يقول ربنا لك الحمد وسكت، ولقد أحسن في الجواب؛ إذ لم ينه عن الاستغفار، نهر وغيره.

أقول: بل فيه إشارة إلى أنه غير مكروه؛ إذ لو كان مكروهاً لنهى عنه، كما ينهى عن القراءة في الركوع والسجود، وعدم كونه مسنوناً لا ينافي الجواز كالتسمية بين الفاتحة والسورة، بل ينبغي أن يندب الدعاء بالمغفرة بين السجدتين خروجاً من خلاف الإمام أحمد لإبطاله الصلاة بتركه عامداً، ولم أر من صرح بذلك عندنا، لكن صرحوا باستحباب مراعاة الخلاف، والله أعلم". (1 / 505، با ب صفۃ الصلاۃ، ط:  سعید)

وفیہ ایضاً:

"يكره تحريماً (تطويل الصلاة) على القوم زائداً على قدر السنة في قراءة وأذكار رضي القوم أو لا؛ لإطلاق الأمر بالتخفيف، نهر. وفي الشرنبلالية: ظاهر حديث معاذ أنه لا يزيد على صلاة أضعفهم مطلقاً". (1/564، باب الامامۃ،  ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200967

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے