بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

مفتی کی نماز قاری کے پیچھے مکروہ نہیں۔


سوال

ایک مدرسے میں ایک قاری صاحب فریضہ تدریس کے ساتھ ساتھ ذمہ داران مدرسہ کی طرف سے مدرسے کی مسجد میں منصب امامت پر بھی فائز ہیں، چند روز قبل ایک مفتی صاحب کا مدرسے میں تقرر ہوا، وہ کہتے ہیں کہ میری نماز ان قاری صاحب کے پیچھے مکروہ ہوتی ہے ،اس لیے کہ علم کے اعتبار سے میں ان سے فائق ہو،معلوم یہ کرنا ہے کہ مفتی صاحب کی نماز مذکورہ قاری صاحب (جب کہ وہ ما یجوز بہ الصلاۃ قرات کر لیتے ہیں) کے پیچھے مکروہ ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر قاری صاحب کو اس قدر نماز کے مسائل کا  علم ہے کہ کن چیزوں سے نماز فاسد ہوجاتی ہے؟ فرائض اور واجبات کا علم ہو اور وہ اچھی تلاوت کرتے ہیں تو ان کے پیچھے مذکورہ مفتی صاحب کی نماز مکروہ نہیں ہوتی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 557)

(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة

و فی الرد: (قوله بأحكام الصلاة فقط) أي وإن كان غير متبحر في بقية العلوم، وهو أولى من المتبحر، كذا في زاد الفقير عن شرح الإرشاد

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 128)

ثم من المشايخ من أجرى الحديث على ظاهره وقدم الأقرأ لأن النبي صلى الله عليه وسلم بدأ به ، والأصح أن الأعلم بالسنة إذا كان يحسن من القراءة ما تجوز به الصلاة فهوأولى ، كذا ذكر في آثار أبي حنيفة لافتقار الصلاة بعد هذا القدر من القراءة إلى العلم ليتمكن به من تدارك ما عسى أن يعرض في الصلاة من العوارض ، وافتقار القراءة أيضا إلى العلم بالخطأ المفسد للصلاة فيها ، فلذلك كان الأعلم أفضل حتى قالوا : إن الأعلم إذا كان ممن يجتنب الفواحش الظاهرة والأقرأ أورع منه - فالأعلم أولى ، إلا أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم الأقرأ في الحديث ؛ لأن الأقرأ في ذلك الزمان كان أعلم لتلقيهم القرآن بمعانيه وأحكامه ، فأما في زماننا فقد يكون الرجل ماهرا في القرآن ولا حظ له من العلم ، فكان الأعلم أولى فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144010200681

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں