بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

مغرب عشاء کے وقت میں ادا کرنا


سوال

ایک شخص نے مغرب کی نماز وقت میں شروع کی،  مگر سلام پھیرا تو وقت ختم ہو چکا تھا اور اس کے اندازے سے نماز کی مکمل ایک رکعت عشاء کے وقت میں پڑھی ہے، کیا یہ نماز قضا  کے لیے کافی ہو جائے گی؟

جواب

مذکورہ صورت میں نماز دہرانا لازم  نہیں ہے؛ اس لیے کہ نمازِ  مغرب کے بعد کوئی مکروہ وقت نہیں ہے۔

جمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 146):
"وإلى أنه لو شرع في الوقتية عند الضيق ثم خرج الوقت في خلالها لم تفسد". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے