بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ کے علاج کا خرچہ


سوال

بیوی کو ایک طلاق دی، وہ اپنی مرضی سے میکہ چلی گئی، اب پوچھنا یہ ہے کہ عدت کے دوران دکھ بیماری کا خرچ مثلاً مختلف ٹیسٹ وغیرہ یا کسی بیماری مثلًا کینسر کا علاج شوہر کے ذمہ ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ علاج کا خرچہ شوہر پر لازم نہیں ۔

الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الثالث في نفقة المعتدة،  (1/ 557)  الناشر: دار الفكر:

’’المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعياً أو بائناً، أو ثلاثاً حاملاً كانت المرأة، أو لم تكن، كذا في فتاوى قاضي خان‘‘.

ولایجب الأداء للمرض ولا أجرۃ الطبیب ولا الفصد ولا الحجامۃ، کذا في السراج الوہاج". (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۵۴۹ )
"بخلاف المریضۃ؛ فإنہ لا نفقۃ لہا، وہي في بیتہا مطلقًا".  (البحر الرائق ۴؍۱۸۲)
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے