بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مشترک آمدنی سے پلاٹ لیا تو تقسیم کیسے ہوگی؟


سوال

کئی سال پہلے ایک شخص کے والد کے انتقال کے بعد مالی تنگی کی وجہ سے اس نے اور اس کی بہن نے قالین بنانے کی مزدوری کی، ان دونوں کی مشترک آمدن سے گھر کے اخراجات کیے گئے، ساتھ ہی اس شخص نے پانچ ہزار روپے کا ایک پلاٹ ادھار خرید لیا، جس کی ادائیگی بھی ان دونوں کی مشترک آمدن سے کی گئی، کچھ عرصے کے بعد اس کی بہن کی شادی ہو گئی اور وہ اپنے سسرال چلی گئی. اب کچھ عرصہ قبل اس پلاٹ کو دولاکھ اسی ہزار روپے میں فروخت کیا گیا ہے، اس رقم میں سے اس کی بہن کو بھی کچھ دیا جائے گا یا نہیں ؟اگر دیا جائے تو کتنا؟

جواب

اگر پلاٹ بھی مشترک طور پر خریدا تھا جیساکہ دونوں کا کام مشترک تھا تو  اس میں دونوں کا حصہ ہے،  دونوں کی  مشترک آمدنی میں جو  شرح تھی اتنا ہی حصہ اس پلاٹ میں ہوگا، یعنی اگر دونوں مل کر کام کرتے تھے اور آدھی آدھی آمدنی استعمال کرتے تھے تو اب بہن کا اس پلاٹ میں آدھا حصہ ہوگا۔ لہذا بھائی کو چاہیے کہ اپنی بہن کو اس قدر ادائیگی کردے۔

اور اگر پلاٹ بھائی نے اپنے لیے خریدا تھا، لیکنادائیگی  مشترک آمدنی سے کی ہے، تو جو  شرح باہم تقسیم کی طے ہوئی تھی اس کے مطابق جتنے پیسے بہن کے حصہ سے گئے ہیں، اتنی رقم بھائی پر بہن کو دینا لازم ہوگا۔

’’ الفقہ الإسلامي وأدلته‘‘ : شرکة الأعمال جائزة عند المالکیة والحنفیة والحنابلة والزیدیة، لأن المقصود منها تحصیل الربح وهو ممکن بالتوکیل". (۵/۳۸۸۷ ،)

’’ المبسوط ‘‘ : قال : (والشریکان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم یعمل وعمل الآخر فالربح بینهما علی ما اشترطا)؛ لما روي أن رجلاً جاء إلی رسول الله صلی الله علیه وسلم فقال : أنا أعمل في السوق ولي شریک یصلي في المسجد، فقال رسول الله صلی الله علیه وسلم : ’’ لعلک برکتک منه ‘‘. والمعنی أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته، والتقبل کان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا تری أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل کان الربح بینهما علی الشرط، أو لا تری أن الشریکین في العمل یستویان في الربح وهما لایستطیعان أن یعملا علی وجه یکونان فیه سواء وربما یشترط لأحدهما زیادة ربح لحذاقته وإن کان الآخر أکثر عملاً منه، فکذلک یکون الربح بینهما علی الشرط ما بقي العقد بینهما وإن کان المباشر للعمل أحدهما ویستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغیر عذر؛ لأن العقد لا یرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد". (۱۱/۱۷۱، کتاب الشرکة، بیروت)

"إذا شرطا الربح علی قدر المالین متساویاً، أومتفاضلاً، فلا شک أنه یجوز ویکون الربح بینهما علی الشرط … والوضیعة علی قدر المالین متساویاً، ومتفاضلاً؛ لأن الوضیعة اسم لجزء هالک من المال فیتقدر بقدر المال". (بدائع الصنائع، کتاب الشرکة، 5/۸۳)

"وإن شرطا أن یکون الربح والوضیعة بینهما نصفین، فشرط الوضیعة بصفة فاسدة؛ ولکن بهذا لا تبطل الشرکة؛ لأن الشرکة لاتبطل بالشروط الفاسدة، وإن وضعا فالوضیعة علی قدر رأس مالهما". (تاتارخانیة، 7/۴۹۱) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے