بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کاروبار کا نفع استعمال کرنااور قرض ادا کرنا


سوال

1۔ دو بھائیوں "الف "اور" ب "نے 67 سال پہلے  50/50 فیصد کی شراکت کے ساتھ کاروبار شروع کیا۔

2۔ کاروبار کے دوران انہوں نے کاروبار کے لیے کچھ فیکٹریاں، زرعی زمینیں اور کچھ دیگر جائیدادیں خریدیں۔

3۔ تمام جائیدادیں کاروبار ی نوعیت کی تھیں۔

4۔ تمام جائیدادیں بینک کے قرضوں اور کاروبارسے  حاصل ہونے والی نقد رقم سے بنائی گئی تھیں۔

5۔ بھائی "الف" کا 1973ء میں انتقال ہوگیا ، ان کے انتقال کے وقت جائیدادوں کی قیمت کم اور قرضے زیادہ تھے، نیز تمام جائیدادیں بینکوں میں گروی تھیں اور بینکوں میں بحالی کا مقدمہ عدالتوں میں زیر التوا تھا، جس کی وجہ سے یہ جائیدادیں قابلِ فروخت نہ تھیں، اس کے علاوہ ان سپلائرز کے قرض بھی تھے جو فیکٹریوں کو چلانے کے لیے خام مال فراہم کرتے تھے۔
6۔ . بھائی "ب" بھی 1991ء  میں انتقال کرگئے اور ان کی موت کے وقت بھی وہی صورتِ حال تھی جیسے بھائی "الف" کی موت کے وقت تھی، ملکیت / اثاثوں کی قیمت کم تھی اور بینک اورخام مال مہیا کرنے والوں کے قرضے  زیادہ تھے، بینکوں کے مقدمے زیرِعمل  تھے، کچھ جائیدادوں کی ملکیت بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کی گئی تھی ،کیوں کہ ان کے بیچنے والوں  کو مکمل طور پر رقم ادا نہیں کی گئی تھی۔
7۔ 1973 میں بھائی "الف" کی موت سے پہلے ہی چند بیٹوں نے کاروبار چلانے میں مدد کرنے کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔
 8۔ کچھ بیٹےجن کے قبضہ میں آمدنی دینے والی جائیدادتھی، وہ جائیداد کی تمام آمدنی(کرایہ وغیرہ)  کا استعمال کرتے تھے اور دوسرے بھائیوں کو جائیداد کی آمدنی کا کوئی حصہ نہیں دیتے تھے اور تمام آمدنی اپنے خاندان کے اخراجات میں استعمال کرتے تھے۔
9۔ دیگروہ بیٹے جن کے زیر قبضہ کوئی ایسی جائیداد نہ تھی جو ازخود آمدنی (کرایہ وغیرہ) دے، لیکن 1991 ء میں مرنے والے بھائی "ب"کے ساتھ کام کرنے کی شہرت کی بنا پر بینکوں اور تاجروں کےقرضوں کا انہیں بھی سامنا کرنا پڑا،  دوسرے بھائیوں کی مالی امداد کے بغیر ان بھائیوں نےاپنا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا ، عدالت میں بینک کے مقدمات کا سامنا کیا اور قسطوں میں خام مال کے سپلائرز کے قرض ادا کرنے کی کوشش کی۔
10۔  چوں کہ دونوں بھائیوں"الف" اور "ب" کی تشکیل کردہ فیکٹریاں اور دوسری جائیداد ان کے نام پر تھیں، لہذا پاکستان کے قانون کے مطابق ریونیو افسران نے جائیدادیں ان کے قانونی وارثوں کے ناموں خود بخود منتقل کردیں۔
11۔ بالآخر بھائی "الف"کی موت  کے 38 سال کے بعد2011ء میں بینکوں کا قرضہ ادا کیا گیا اور2016ء میں کچھ ذاتی قرضے ادا کیے گئے تھے اور کچھ اب تک قابلِ اداء ہیں۔ یہ قرضے کچھ قانونی وارثوں کے ذریعہ بہت مشکل حالات میں اپنا کاروبار کرتے ہوئے ادا کیے گئے، یہ کہا جاتا ہے کہ جب تک تمام قانونی وارث مطمئن نہ ہوں تو میراث تقسیم کرنا ممکن نہیں ہے، اوپر  بیان کردہ صورتِ حال میں آپ  کوئی حل فراہم کریں؛ تاکہ نہ ہی کوئی شخص اپنے قانونی حصص سے محروم ہو اورنہ ہی کسی کو اپنے حصے سے زیادہ ملے۔
12۔  جائیداد فیکٹریوں کی صورت میں تھی، بھائی "الف" اور "ب" کی موت کے وقت ان کے متروکہ سرمایہ سے زیادہ  قرض تھے،  قرض ان کےقانونی وارثوں کی طرف سے ادا کیے گئے،اس صورتِ حال میں سورت النساء  میں دیے گئے وراثت کا قانون لاگو ہوتا ہے یاحساب لگایا جائے گا کہ کس نے کرایہ کی مد میں اضافی آمدنی حاصل کی ہے اور کس نے کاروبار سے پیسہ کمایا اور قرض ادا کیا اور بینک  اور دیگر قرض خواہوں کے معاملات کو حل کردیا؟ اب تک تمام اصل قانونی وارث زندہ ہیں جو حقائق کو جانتے ہیں۔

جواب

کاروبار میں "الف" اور "ب" میں سے ہر بھائی کا جوحصہ تھا وہ اس کےورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
جن ورثانے مشترکہ جائیداد کا کرایہ دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر وصول کیا ہے اتنی مقدار ان کے حصوں میں سے نکال کر بقیہ رقم انہیں دی جائے گی۔ اگراجازت کےساتھ بلاتقسیم ذاتی اخراجات میں استعمال کیا ہے تو ان سے اس رقم کا مطالبہ نہیں ہوگا۔
اگر کسی ایک وارث یا ورثاء نے مشترکہ کاروبار کے قرضوں کی ادائیگی اپنی رقم سےکی ہےتو اسےجائیداد کی تقسیم سے پہلے اتنی رقم ملے گی جتنی اس نے قرضوں میں ادا کی ہے۔ اگر کاروبار سے کما کرقرضے اداکیے ہیں تو انہیں مطالبہ کاحق نہیں ہے۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200095

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں