بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

میت کے رشتہ دار اسے مسلمان کہیں تو مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کا حکم


سوال

کچھ لوگ جاپان میں ایک میت دور درز علاقے سے لے کر آئے، مرحوم بیس تیس یا پچاس سال سے جاپان کے رہائشی تھے اور ان کے رشتہ دار(بیوی بچوں وغیرہ) نے کہا کہ مرحوم نے کہا تھا کہ میں مسلمان ہوں، جب کہ ان کے  رشتہ دار برائے نام مسلمان ہوں اور مرحوم کا نام مسلمانوں والا ہو یا ترکی نام ہو یا ایرانی، نیز  اس مرحوم  کی مزید تحقیق کرنا ناممکن اور مشکل ہے تو  کیا اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا نا جائز ہے  یا نہیں؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں مرحوم کے رشتہ داروں کا اسے مسلمان کہنا، نام بھی مسلمانوں والا  ہونا اور پھر انتقال کے بعد مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کی خاطر میت کو لے کر دور دراز کا سفر کرنا، ان قرائن سے مرحوم کا مسلمان ہونا ہی راجح معلوم ہوتا ہے، لہذا ایسی صورت میں مرحوم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں