بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی چھت پر سولر سسٹم لگانا


سوال

آج کل سولر سسٹم بہت عام ہوگیا ہے، کیا کسی مسجد میں نمازیوں اور مسجد کی ضروریات (پنکھے، پانی کی موٹر وغیرہ چلانے) کے لیے بجلی کی پیداوار کی خاطر مسجد کی چھت پر شمسی توانائی کے حصول کے لیے سولر پینل نصب کرنے کی اجازت ہے؟ یہ مسجد کے آداب کے خلاف تو نہیں ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ سولر سسٹم کے استعمال میں کسی قسم کی تلویث نہیں پائی جاتی، لہٰذا مسجد کی ضرورت کے پیشِ  نظر مسجد کی چھت پر سولر سسٹم لگانے کی اجازت ہے، یہ احترام مسجد کے منافی نہیں ہوگا۔

وفي شرح ابن بطال:

"قال ابن القاسم: قد سئل مالك عن أقناء تكون في المسجد وشبه ذلك، فقال: لا بأس بها". (3/86 مكتبة الرشد، السعودية الرياض)

وفي الكوكب الدري على جامع الترمذي:

"(قوله: بالقنو والقنوين فيعلقه) فيه دلالة على تعليق المراوح في المساجد؛ لما أنها ليست بأقل نفعًا من القنو مع ما في القنو من الشغل والتلويث ما ليس في المروحة". (4/84 مطبعة ندوة العلماء الهند)

وفي فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام:

"في حديث عائشة (رضي الله عنها – أن الرسول صلى الله عليه وسلم أمر ببناء المساجد في الدور وأن تنظف وتطيب، وعلى هذا فالمشروع تنظيف المساجد من الأذى وتطييبها، يعني: تحسينها وتزيينها ووضع الطيب فيها؛ لأنها أماكن عبادة ... يتفرع على هذه الفائدة: أنه ينبغي أن يجعل في المساجد ما يريح المصلين مثل: التكييف أو المراوح، أو الأنوار إذا كان الناس يحتاجون إليها في الليل وما أشبه ذلك". (2/544، ط: المكتبة الإسلامية)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106201238

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں