بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے خزانچی کا تجوری خالی کرنے کی اجرت لینا


سوال

 کیا مسجد کا خزانچی تجوریاں خالی کرنے کی اجرت لے سکتا ہے؟ اور لے سکتا ہے تو کتنی؟  اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

جواب

مسجد کمیٹی کے افراد عموماً بلا معاوضہ  کام کرتے ہیں اور یہ ہی مسجد ٹرسٹ کےمعاہدے پر لکھا ہوتا ہے، اور تجوریاں خالی کرنےیا مسجد کی کسی اور خدمت  کی اجرت نہٰیں لی جاتی۔

البتہ اگر  اس قسم کا کوئی دستاویز طے نہ ہوا ہو کہ تمام افراد  للہ فی اللہ کام کریں گے اور کمیٹی کوئی ایسا کام کسی سے اجرت کے عوض کرانا چاہےاور واقف کی بھی اجازت ہو ، اور پہلے سے اجرت طے کرلی جائے  اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس عمل کی اجرت طے ہو تو جائز ہے۔

قال في الدر:

"ومرّ أیضًا أن للمتولي أجر مثل عمله".

وفي الشامي:

"ولم یشترط له الواقف شیئًا کما قدمناه". (شامي، کتاب الوقف / مطلب في تحریر حکم ما یأخذه المتولي الخ ۴؍۴۵۱)

"والثاني: هو الأجیر الخاص ویسمى أجیر واحد، و هو من یعمل لواحد عملًا مؤقتًا بالتخصیص، ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدة". (الدرالمختار مع الشامي، الإجارة، باب ضمان الأجیر، مبحث الأجیر الخاص، ۶/ ۶۹) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144010200219

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں