بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1442ھ- 29 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربِ قیامت مسجد میں گانوں کی آوازوں سے متعلق روایت کی تحقیق


سوال

تبلیغی حضرات اکثر  یہ بات کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ جب قیامت قریب ہوجائے گی تو مسجدوں میں گانوں  اور میوزک کی آوازیں ہوں گے َ۔ اس کا کوئی حوالہ اگر ہے تو برائے مہربانی بتادیجیے ؟  اگر نہیں ہے اس طرح کی کوئی حدیث،  پھر بھی رہنمائی کیجیے!

جواب

’’سنن الترمذی‘‘  میں ایک طویل روایت ہے:

"حدثنا صالح بن عبد الله الترمذي حدثنا الفرج بن فضالة أبو فضالة الشامي عن يحيى بن سعيد عن محمد بن عمرو بن علي عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إذا فعلت أمتي خمس عشرة خصلةً حلّ بها البلاء، فقيل: وما هنّ يا رسول الله؟ قال: إذا كان المغنم دولًا، والأمانة مغنمًا، والزكاة مغرمًا، وأطاع الرجل زوجته و عقّ أمّه، وبرّ صديقه وجفا أباه، وارتفعت الأصوات في المساجد، وكان زعيم القوم أرذلهم، وأكرم الرجل مخافة شرّه، وشربت الخمور، ولبس الحرير، واتخذت القنيات والمعازف، ولعن آخر هذه الأمة أوّلها، فليرتقبوا عند ذلك ريحًا حمراء أو خسفًا أو مسخًا".

ترجمہ: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میری امت پندرہ عادات اپنائے گی تو ان پر مصیبتیں نازل ہوں گی، کہا گیا: وہ کیا ہیں یارسول اللہ ؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : جب غنیمت امیروں کے درمیان دائر ہوگی، امانت کو غنیمت سمجھا جائے گا،  زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے گا،  آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے گا اور اپنی والدہ کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست کے ساتھ اچھا برتاؤ  کرے گا اور اپنے والد کے ساتھ بے رحمی سے پیش آئے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہوں گی،  قوم کا بڑا ان میں سے ذلیل شخص ہوگا،  آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کی وجہ سے کیا جائے گا،  شرابیں پی جائیں گی،  ریشم پہنا جائے گا،  آلاتِ موسیقی بنائے جائیں گے / اختیار کیے جائیں گے، امت کے پچھلے لوگ پہلوں پر لعنت کریں گے،  پس اس وقت انتظار کرو سرخ ہوا یا خسف ومسخ کا۔ (جامع الترمذی ، کتاب الفتن ، ما جاء فی علامات حلول المسخ والخسف ، رقم الحدیث : ۲۲۱۰، ط:دارالحدیث قاہرہ)

اس حدیث میں "ارتفعت الاصوات فی المساجد "سے معلوم ہورہا ہے کہ مساجد میں آوازیں بلند ہوں گی ، یہ حدیث "الفرج بن فضالہ" اور "محمد بن عمرو بن علی "کی وجہ سے ضعیف ہے ۔امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا :” هذا حديث غريب لانعرفه من حديث علي بن أبي طالب إلا من هذا الوجه“.  

اس کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس مضمون کی ایک اور روایت کے الفاظ نقل کیے ہیں جو مذکورہ سند سے مروی ہے:

"حدثنا علي بن حجر حدثنا محمد بن يزيد الواسطي عن المستلم بن سعيد عن رميح الجذامي عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إذا اتخذ الفيء دولًا  ..... وظهرت الأصوات في المساجد". (جامع الترمذی ، کتاب الفتن ، ما جاء فی علامات حلول المسخ والخسف ، رقم الحدیث : ۲۲۱۰، ط:دارالحدیث قاہرہ)

آگے اس روایت میں "وظهرت الأصوات في المساجد " کے الفاظ آتے ہیں ، اس سند میں "رمیح الجذامی " مجہول راوی ہیں ۔(تقریب التہذیب :۲۴۶، رشیدیہ)

۳۔اسی طرح الفتن میں ایک روایت ہے:

"حدثنا يحيى بن سليم الطائفي عن الحجاج بن فرافصة عن مكحول قال: قال أعرابي يا رسول الله متى الساعة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم: ما المسئول عنها بأعلم من السائل ولكن أشراطها: تقارب الأسواق، ومطر ولا نبات، وظهور الغيبة، وظهور أولاد الغية، والتعظيم لربّ المال، وعلو أصوات الفساق في المساجد، وظهور أهل المنكر على أهل المعروف، فمن أدرك ذلك الزمان فليرغ بدينه، وليكن حلسًا من أحلاس بيته". 

ترجمہ: مکحول فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: یارسول اللہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : مسئول (جس سے پوچھا جارہاہے وہ) سائل (پوچھنے والے) سے زیادہ جاننے والا نہیں،  لیکن اس کی نشانیاں ہیں:  بازاروں کی کثرت ہوگی،  بارش ہوگی لیکن نباتات نہیں اگیں گے، غیبت ظاہر ہوگی،  سرکش اولاد ظاہر ہوگی،  مال والے کی تعظیم ہوگی،  مساجد میں آوازیں بلند ہوں گی،  برے لوگ نیک لوگوں پر غالب ہوں گے،  جس نے بھی یہ زمانہ پایا اسے چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے،  اور اپنے گھر کے ٹاٹوں میں سے ایک ٹاٹ بن جائے۔ (الفتن لنعیم بن حماد ، ص:۴۳۴، ط: دارالکتب العلمیہ)

اس حدیث میں "علو أصوات الفساق في المساجد " کے الفاظ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فاسقوں کی آوازیں مساجد میں بلند ہوں گی،  یہ روایت مکحول رحمہ اللہ سے مرسلاً منقول ہے اور اس کے تمام رواۃ مقبول ہیں ۔

۴۔حلیۃ الاولیاء میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت  منقول ہے جس میں ہے :" وعلت أصوات الفسقة في المساجد" ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں فاسقوں کی آوازیں بلند ہوں گی ۔

مذکورہ بالا تمام روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مساجد میں فساق کی آوازیں گونجیں گی، فساق شور وغل کریں گے، البتہ کسی روایت میں صراحت کے ساتھ یہ نہ مل سکا کہ میوزک اور گانوں کا تذکرہ ہو۔

تاہم محدثین نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے فسق وفجور اور لہو و لعب سمیت دنیاوی امور سے متعلق ہر طرح کی آواز مراد ہوسکتی ہے، چنانچہ ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ میں ہے:

"وارتفعت الأصوات في المساجد، بنحو الخصومات والمبايعات واللهو واللعب...‘‘ (تحفة الأحوذي: ٦/۴۵۵ قديمي كتب خانه)

التعلیق الصبیح میں ہے:

"أصوات الناس في المساجد، المراد أصوات أمور الدنيا". (التعليق الصبيح :٦/۱۹۴، مكتبه عمانيه لاهور)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200373

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں