بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی حدود میں اور ارد گرد قبریں ہوں تو نماز کا حکم


سوال

روڈ کے کنارے ایک مسجد ہے، جس کے تینوں اطراف قبرستان ہے اور صرف مین دروازے کی طرف روڈ ہے، نیز کچھ قبریں مسجد کے احاطے میں بھی ہے جو  نمازیوں کے بالکل سامنے قبلے کی سمت پر ہیں۔ اب ایسی صورت میں نماز درست ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس مسجد کے تینوں اطراف قبرستان ہے، اور کچھ قبریں مسجد کے احاطے میں قبلہ کی سمت نمازیوں کے بالکل سامنے ہیں تو ایسی صورت میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ قبریں نمازیوں کے بالکل سامنے نہ ہوں، بلکہ نمازیوں اور قبروں کے درمیان میں دیوار کھڑی کردی جائے، اگر قبلہ کی جانب مسجد کی دیوار موجود ہے، اور دیوار کے بعد آگے قبریں موجود ہیں جن پر نمازیوں کی نظر نہیں پڑتی تو اس مسجد میں نماز ادا کرنا بلاکراہت جائز ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"وفي القهستاني: لاتكره الصلاة في جهة قبر إلا إذا كان بين يديه؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه كما في جنائز المضمرات.  (1/654، باب ما يفسد الصلاة وما يكره، ط: سعيد) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144104200044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں