بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

مستحق کو زکاۃ کے پیسوں سے موبائل دینا


سوال

 کیا ایک صاحبِ نصاب ایک مستحق کو  زکاۃ میں 20 یا 25 ہزار روپے کا نیا موبائل دے سکتا ہے؟

جواب

مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکر موبائل دے دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی، البتہ اس حوالے سے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

1- زکاۃ کا مستحق ایسا مسلمان آدمی ہے،  جس کے پاس اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر یا اس سے زیادہ کسی قسم کا مال (سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت) یا (اتنی مالیت کا ضرورت و استعمال سے زائد کسی قسم کا) سامان نہ ہو۔ اس کو  زکاۃ دینا اور اس کے  لیے ضرورت کے مطابق زکاۃ لینا جائز ہے۔

2- بہتر یہ ہے کہ زکاۃ زیادہ مستحق لوگوں پر صرف کی جائے، اور (علاوہ مستحقِ زکاۃ ہونے کے) زیادہ استحقاق کی بنیاد یا تو  قرابت داری ہے، یا دینی علوم کا طالب علم ہونا، یا دین دار اور متقی ہونا یا دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ضرورت مند ہونا۔ لہٰذا کوشش یہ کرنی چاہیے کہ دیگر خیرات کی طرح زکاۃ بھی نیک لوگوں پر صرف کی جائے یا جو بہت زیادہ ضرورت مند ہوں انہیں تلاش کرکے ان پر صرف کی جائے۔

امام غزالی رحمہ اللہ نے ’’احیاء العلوم‘‘  میں لکھا ہے:

’’زکاۃ وغیرہ دینے کے  لیے ایسے دین دار لوگوں کو تلاش کرے جو دنیا کی طمع و طلب کو چھوڑ کر آخرت کی تجارت میں مشغول ہوں۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ارشاد ہے کہ تم پاک غذا کھاؤ اور پاک لوگوں کو کھلاؤ۔  نیز یہ بھی آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ نیک کام کرنے والے ہی کو اپنا کھانا کھلاؤ۔

حضرت عبد اللہ بن مبارک اپنی زکاۃ و خیرات اہلِ علم پر ہی خرچ کرتے تھے‘‘۔

3- مستحق کو جس چیز کی زیادہ ضرورت ہو وہ چیز زکاۃ میں دینا۔ اور نقدی اس کے لیے سب سے بہتر و موزوں ہے؛ تاکہ ضرورت مند اپنی چاہت کے مطابق اپنی ضرورت پوری کرلے۔ الا یہ کہ اسے کسی چیز کی فوری طلب ہو اور نقد ادائیگی کی صورت میں اس کے لیے انتظام مشکل ہو، (مثلاً لباس، کھانا، دوا وغیرہ) تو وہی چیز مستحق کو مالکانہ طور پر دے دی جائے۔

مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں اگر کسی شخص کو موبائل کی زیادہ ضرورت ہو (مثلاً کسی دینی خدمت میں وہ اسے استعمال کرے گا)، اور اس کے بارے میں یہ یقین نہ ہو کہ وہ اسے غلط کام میں استعمال کرے گا تو اسے موبائل فون زکاۃ کی مد میں دینے میں حرج نہیں، البتہ اگر اسے اتنے قیمتی موبائل کی ضرورت نہ ہو تو بہتر ہوگا کہ ایسا موبائل دیا جائے جس سے بنیادی ضرورت پوری ہو جائے۔  یا نقد کی صورت میں زکاۃ دے دی جائے، پھر وہ خود مختار ہے، جس ضرورت میں چاہے صرف کرے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے